گلِ رنگیں — علامہ اقبال | بانگِ درا کی فلسفیانہ نظم | مکمل متن
نظم "گلِ رنگیں" میں علامہ محمد اقبالؒ ایک رنگین پھول سے مخاطب ہوتے ہیں۔ شاعر گل کی ظاہری خوبصورتی، خاموشی اور اطمینان کو دیکھ کر اس سے سوال کرتا ہے کہ کیا اس کے اندر بھی وہی بے چینی، آرزو اور جستجو موجود ہے جو انسان کے دل میں موجزن رہتی ہے۔
اقبال کے نزدیک زندگی کا اصل حسن سکون میں نہیں بلکہ مسلسل تلاش، حیرت، شوق اور آرزو میں پوشیدہ ہے۔ گل اگرچہ خوبصورت ہے لیکن وہ زندگی کی اس تپش اور سوز سے محروم ہے جو انسان کو ترقی، تحقیق اور خود شناسی کی طرف لے جاتی ہے۔
نظم کے آخری حصے میں شاعر اپنی بے قراری
✍️ محمد اقبال — संक्षिप्त परिचय
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
और पढ़ें ←نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!