اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

غلط فہمی اور حقیقت پر فکر انگیز اردو شاعری | عبدالدیان اسد نظم

عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 5 جون 2026
👁 35 ❤️ 0
میں نے سمجھ کے بوجھ کے برکھا غلط نہیں
جانا غلط، غلط کو ہے سوچا غلط نہیں
رہبر غلط ہے یا تو مسافر ہے خود غلط
منزل غلط نہیں کوئی رستہ غلط نہیں
اک لفظ جس کو پڑھ کے تماشہ ہوا یہاں
تم نے پڑھا غلط ہے یہ لکھا غلط نہیں
دو چار ہم میں ایسے ہیں شہرت پسند لوگ
سستا غلط سمجھتے ہیں مہنگا غلط نہیں
عالی جناب کام مرا تھوڑا بھی ہے غلط
پورا غلط کہیں اسے آدھا غلط نہیں
میرے غلط پہ کہنے لگے چینخ کر غلط
تم نے غلط کیا ہے جو، وہ کیا غلط نہیں
یہ بھی تو ہے غلط کہ غلط بات کو اسد
تسلیم تو نے کر لیا سمجھا غلط نہیں
📖 Summary

یہ نظم انسانی سوچ، غلط فہمی اور حقیقت کے فرق کو اجاگر کرتی ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ اکثر ہم راستے، رہبر اور حالات کو غلط سمجھ لیتے ہیں جبکہ اصل غلطی ہماری اپنی سوچ اور ادراک میں ہوتی ہے۔ یہ شاعری اصلاحی اور غور و فکر پر مجبور کرنے والی ہے۔

← Previous Next →
More by عبدالدیان اسدؔ
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online