اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

تمہیں کو دیکھیں تمہیں کو ہمیشہ پیار کریں

ثمامہ اقبال بدھ، 3 جون 2026
👁 73 ❤️ 1
تمہیں کو دیکھیں تمہیں کو ہمیشہ پیار کریں
قریب آؤ ذرا جان و دل نثار کریں
اخیر سانس تلک جانِ آرزو تیرا
"کبھی گلی میں کبھی چھت پہ انتظار کریں"
چلے بھی آئیں خدارا کسی بہانے سے
مرے قریب رہیں اور مجھ سے پیار کریں
جو تھے عزیز وہی زخم دے گئے آخر
کسے رفیق کہیں کس کا اعتبار کریں
نہ بادباں کا بھروسہ کریں نہ کشتی کا
حضور تَیر کے دریا کبھی تو پار کریں
مرا جنون ہے اک آہوئے رمیدہ سا
نظر کے تیر چلائیں مرا شکار کریں
بغیر عشق دلوں میں تڑپ نہیں ہوتی
کسی سے عشق کریں اور دل فِگار کریں
سہا نہ جائے گا! اقبال یہ ستم پھر بھی
نشانہ لے کے مرے دل کا آپ وار کریں
📖 Summary

ثمامہ اقبالؔ مئوی کی یہ رومانوی غزل محبت، انتظار، عشق کی شدت اور جذباتی وابستگی کو نہایت خوبصورت اور دلکش انداز میں پیش کرتی ہے۔ ہر شعر عشق کی گہرائی کا عکاس ہے۔
یہ غزل خالص رومانوی جذبات، محبت کی شدت اور محبوب سے وابستگی کے احساسات پر مبنی ہے۔ شاعر محبوب سے قربت، دیدار اور مسلسل محبت کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ کہیں وہ انتظار کی کیفیت بیان کرتا ہے تو کہیں عشق کی بے قراری اور دل کے فگار ہونے کی کیفیت کو اجاگر کرتا ہے۔ غزل میں محبت کو زندگی کی اصل روح کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ محبوب کے بغیر

← Previous Next →

✍️ ثمامہ اقبال — Short Introduction

ثمامہ اقبال
📍 مئو ناتھ بھنجن،اترپردیس،ہندوستان

ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by ثمامہ اقبال
مرا یہ جسم تو خالی گلاس ہے گویا کہ میرا دل تو حسینوں کے پاس ہے گویا مری شَبیہ نمایاں ہے میرے شعروں س...
قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے "زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مُسکرائے ہوئے" ہماری آنکھ سے ...
رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے اک نظر تیری مرے زخم کا مرہم ہو جائے سوکھ جائیں گے مری شوخ تمنا ک...
داستاں میری محبت کی مُکمّل کردو اپنا دیوانہ بنا کر مجھے پاگل کردو میرے بھی جسم سے خوشبوئے وفا اُٹھے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online