اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نثری نظم

گود کے لیے ترستی کویتا

گود کے لیے ترستی کویتا
احمد نعیم
احمد نعیم جمعرات، 21 مئی 2026
👁 98 ❤️ 1

ہرکویتا
کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے
جیسے تمہاری پالتو بلی
تمہاری گود
کا لمس لیتی ہے
ویسے ہی
وہ بھی
کسی کی گرم
گود میں سر رکھ کر
ایک کویتا
سنانا
چاہتا ہے
شبد بھی
بہت دیر بھٹکنے کے بعد
کسی اپنے کے نرم لمس کی تلاش کرتے ہیں. شبد چاہتے ہیں
کوئی انہیں
اپنی دھڑکن کے قریب جگہ دے
کوئی ان کے ماتھے پر
محبت کا ہاتھ رکھے
اور وہ
سر رکھ کر
آہستہ سے
ایک کویتا سنا سکیں
جس میں ____!
بارش کی نمی ہو
تنہائی کی ہلکی آنچ ہو
اور انسان کے اندر
بچی ہوئی روشنی کی خوشبو ہو
تاکہ سنسار کی
تمام کویتاؤں کو
وہ
خراجِ تحسین پیش کر سکے۔
اور دنیا
کچھ دیر کے لیے
ایک پرسکون گود میں
سو جائے۔

📖 خلاصہ

ہر کویتا کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے | محبت، شاعری اور لفظوں کی دنیا یہ خوبصورت نظم انسانی محبت، قربت اور لفظوں کی داخلی دنیا کی ایک لطیف تعبیر ہے۔ شاعر نے کویتا (نظم) اور شبد (الفاظ) کو انسانی احس…

مزید متعلقہ نثر
میں خود کشی نہیں کروں گی
میری آنکھیں نوحہ لکھیں گی میرے آنسوؤں کے قلم سے میری روح سنگ مرمر کی مانند ...
میں مسافر ہوں محبت کے خیاباں کا
میں مسافر، ہوں محبت، کے خیاباں، کا مجھے حرفِ ندا ذوق و شناسائی سے حاصل، ہوئی...
زبان کی اہمیت
زبان محض لفظوں کا مجموعہ نہیں، یہ دلوں کے درمیان ایک روشن پُل ہے۔ ماں کی لوری ...
لطیفہ
لطیفہ ہی تو ہے یہ زندگی ہاں دیکھو تو ایک لطیف سا احساس سوچو تو محض مر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن