اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل

خاموش میرے غم کا تماشہ نہیں ہوا

ہاشم حسین انور حسین اتوار، 24 مئی 2026
👁 42 ❤️ 1
خاموش میرے غم کا تماشہ نہیں ہوا
اس کے سوا جہان میں کیا کیا نہیں ہوا
اے کاش آج بھی کوئی گرتی وفا کی بوند
لیکن فراقِ یار میں ایسا نہیں ہوا
جو تھا مریضِ عشق وہ دنیا سے چل بسا
لیکن کہیں بھی قتل کا چرچا نہیں ہوا
ہم تو رواجِ عشق نبھاتے رہے مگر
دشمن جہان میں کوئی اپنا نہیں ہوا
دیکھا تھا اس نے یاد ہے مڑ مڑ کے بار بار
لیکن نگاہِ نم کا گزارا نہیں ہوا
منکر نہیں ہیں اہلِ جنوں چشمِ یار کے
پھر کیوں؟ قرارِ مَن کوئی چارہ نہیں ہوا
ہم طالبانِ عشق محبت وفا کے ساتھ
"اک دل لگی کی آڑ میں کیا کیا نہیں ہوا"
برسے گھٹا ہوا ہو رواں مست ہو فضا
لیکن وصالِ یار میں ایسا نہیں ہوا
📖 خلاصہ

یہ غزل ہاشم انور ہاشم کی ایک درد بھری اور جذباتی کیفیت کی عکاس ہے، جس میں عشق، جدائی اور ناکامیِ وفا کے پہلو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
شاعر بتاتا ہے کہ اس کے غم کو کبھی پوری طرح سمجھا یا محسوس نہیں کیا گیا، حالانکہ اس نے عشق میں ہر رسم اور تقاضا پورا کیا۔ فراقِ یار کی شدت اس قدر ہے کہ وفا کی کوئی رمق بھی نصیب نہیں ہوتی، اور محبت کا انجام خاموشی اور تنہائی میں گم ہو جاتا ہے۔
غزل میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سچا عاشق دنیا سے چلا جاتا ہے مگر اس کی محبت اور قربانی کا کوئی چرچ

← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن