چراغ بن کہ سرِ راہ جلنا پڑتا ہے
یہ فکر انگیز اور حقیقت پسندانہ غزل فیاض سالک کی تخلیق ہے، جس میں زندگی کی جدوجہد، قربانی اور انسان کی داخلی مضبوطی کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
شاعر ابتدا میں یہ پیغام دیتا ہے کہ اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے خود چراغ بن کر جلنا پڑتا ہے، یعنی روشنی پھیلانے کے لیے قربانی دینا ضروری ہے۔ اسی طرح زندگی کبھی پھولوں کی نرمی دیتی ہے تو کبھی کانٹوں پر چلنے کی آزمائش بھی پیش آتی ہے۔
غزل میں خود احتسابی کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ جب انسان اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہوتا ہے تو اسے موم کی طرح نرم ہ
✍️ فیاض سالکؔ — Short Introduction
فیاض احمد عقیل احمد جن کا قلمی نام فیاض سالک ہے، عصرِ حاضر کے اُن ابھرتے ہوئے شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مشاعراتی روایت اور ادبی تربیت کے سائے میں اپنی شعری شناخت قائم کی۔ آپ کی ولادت 01 جون 1984ء کو مالیگاؤں، مہاراشٹر (بھارت) میں ہوئی۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کو ادبی ماحول میسر آیا، کیونکہ آپ اپنے والدِ محترم کے ہمراہ مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔ یہی ادبی فضا آپ کے اندر شعری ذوق کی بیداری کا …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




No comments yet — be the first!