اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

چراغ بن کہ سرِ راہ جلنا پڑتا ہے

فیاض سالکؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 52 ❤️ 1
چراغ بن کہ سرِ راہ جلنا پڑتا ہے
مزاج ظلمتِ شب کا بدلنا پڑتا ہے
کبھی حیات گذرتی ہے دامنِ گل میں
برہنہ پا کبھی کانٹوں پہ چلنا پڑتا ہے
َجب آپ ہوتے ہیں اپنی خطا پہ شرمندہ
ہمیں بھی موم کی صورت پگھلنا پڑتا ہے
مثال آپ ہمیں دیجئے نہ سورج کی
کے وقتِ شام اُسےبھی تو ڈھلنا پڑتا ہے
بلندیوں پہ پہنچنے کی جستجو میں کبھی
رہِ حیات میں گِر کر سبھلنا پڑتا ہے
کِسے بتائیں کہ بچّوں کی پرورش کےلیے
سلگتی دھوپ میں گھر سے نکلنا پڑتاہے
نہیں ہےکھیل کوئی شاعری بھی اےسالکؔ
جگر کا خُون قلم سے اُگلنا پڑتا ہے
📖 Summary

یہ فکر انگیز اور حقیقت پسندانہ غزل فیاض سالک کی تخلیق ہے، جس میں زندگی کی جدوجہد، قربانی اور انسان کی داخلی مضبوطی کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

شاعر ابتدا میں یہ پیغام دیتا ہے کہ اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے خود چراغ بن کر جلنا پڑتا ہے، یعنی روشنی پھیلانے کے لیے قربانی دینا ضروری ہے۔ اسی طرح زندگی کبھی پھولوں کی نرمی دیتی ہے تو کبھی کانٹوں پر چلنے کی آزمائش بھی پیش آتی ہے۔

غزل میں خود احتسابی کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ جب انسان اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہوتا ہے تو اسے موم کی طرح نرم ہ

← Previous Next →

✍️ فیاض سالکؔ — Short Introduction

فیاض سالکؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

فیاض احمد عقیل احمد جن کا قلمی نام فیاض سالک ہے، عصرِ حاضر کے اُن ابھرتے ہوئے شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مشاعراتی روایت اور ادبی تربیت کے سائے میں اپنی شعری شناخت قائم کی۔ آپ کی ولادت 01 جون 1984ء کو مالیگاؤں، مہاراشٹر (بھارت) میں ہوئی۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کو ادبی ماحول میسر آیا، کیونکہ آپ اپنے والدِ محترم کے ہمراہ مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔ یہی ادبی فضا آپ کے اندر شعری ذوق کی بیداری کا …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by فیاض سالکؔ
یادِ احمدﷺمیں بہے جب بھی ہمارے آنسو بن گئے مثلِ قمر سارے کے سارے آنسو چین آئے گا سکوں دل کو میسر ہوگ...
چراغ بن کہ سرِ راہ جلنا پڑتا ہے مزاج ظلمتِ شب کا بدلنا پڑتا ہے کبھی حیات گذرتی ہے دامنِ گل میں برہنہ...
بستیاں موم کی اور نگر موم کے پتھروں کا جگر ہے بشر موم کے اُن کو سورج پہ تنقید کا حق نہیں جن کے ہوتے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online