اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

یہ جو ظاہر میں وفا دار نظر آتے ہیں

شاہد وصیؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 40 ❤️ 1
یہ جو ظاہر میں وفا دار نظر آتے ہیں
بڑے شاطر بڑے فنکار نظر آتے ہیں
میرے اجداد نے سینچا ہے لہو سے اپنے
یہ چمن جو گل و گلزار نظر آتے ہیں
جب سے آواز اٹھائی ہے حکومت کے خلاف
سہمے سہمے دَر و دیوار نظر آتے ہیں
دل تو بس ایک ہے سوغات کروں تو کس کو
ہر طرف میرے پرستار نظر آتے ہیں
ہم کہاں جائیں علاج اپنا کرانے صاحب
خود مسیحا یہاں بیمار نظر آتے ہیں
خوب یہ طٗرفہ تماشہ ہے جدھر بھی دیکھو
"سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں "
در حقیقت وہی حقدار ہیں جنت کے وصی
جو گناہوں سے سبک سار نظر آتے ہیں
📖 सार

یہ بامعنی اور تنقیدی کلام شاہد وصی کے فکری شعور اور سماجی بصیرت کا عکاس ہے۔ شاعر نے اس غزل میں معاشرے کے دوہرے معیار، منافقت اور ظاہری وفاداری کے پیچھے چھپے فریب کو بے نقاب کیا ہے۔ جو لوگ بظاہر وفادار اور خیر خواہ دکھائی دیتے ہیں، درحقیقت وہی سب سے زیادہ چالاک اور مفاد پرست ہیں۔

اشعار میں ایک طرف ماضی کی قربانیوں کا ذکر ہے، جن کی بنیاد پر آج کا “گلزار” قائم ہے، اور دوسری طرف موجودہ دور کی بے حسی اور خوف زدہ فضا کا نوحہ بھی ہے، جہاں سچ بولنے والوں کے گرد دیواریں بھی سہم جاتی ہیں۔ شاعر یہ بھی د

← पिछला अगला →

✍️ شاہد وصیؔ — संक्षिप्त परिचय

شاہد وصیؔ
📍 مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش ، ہندوستان

محمد شاہد (وصیؔ) اردو زبان و ادب سے وابستہ اُن شعرا میں سے ہیں جنہوں نے اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری تجربات کو شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ آپ 15 جولائی 1990ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کے اندر ادب سے گہرا شغف پیدا ہوا، جس میں ماحول، مطالعہ اور مشاعراتی فضا نے اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شغف باقاعدہ شعری ذوق میں تبدیل ہوا اور آپ نے شعر و س …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

شاہد وصیؔ की और रचनाएँ
سنامی موج ہے دریا میں سر اٹھائے ہوئے مرا خدا مری کشتی کو ہے بچائے ہوئے نگاہِ ناز نے ایسا اثر کیا دل ...
کس سوچ میں پڑا ہے کدھر جانا چاہئے جس سمت کی ہوا ہے اُدھر جانا چاہئے عائد نہ فردِ جرم کسی بے گنہ پہ ہ...
دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں اب تک نہ کوئی سامنے آیا جواب میں تم سے ملے تو زیست کے نقشے بد...
نغمہِ بربطِ نوا چپ ہے عکس بےزار آئینہ چپ ہے شوخئِ حرفِ ماجرا چپ ہے لفظ خاموش مدعا چپ ہے رہ گزر ہے کہ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन