اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

ہوتا ہے تم کو دیکھ کے پاگل پتا بھی ہے

ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 22 مئی 2026
👁 33 ❤️ 1
اک شخص اپنے آپ میں بوجھل پتا بھی ہے
ہوتا ہے تم کو دیکھ کے پاگل پتا بھی ہے
ابرِ گھٹا کی مثل تھا کاجل پتا بھی ہے
ٹوٹا تھا آنسوؤں کا، وہ، بادل پتا بھی ہے
ہوتا نہیں ہے عارضِ تاباں نگاہ سے
کوشش کے باوجود بھی اوجھل پتا بھی ہے
مرہم لگا رہے ہو بڑے شوق سے مگر
دل کن عنایتوں سے ہے گھائل پتا بھی ہے
کہنے دو بزمِ یار میں دوچار لفظ اور
مدت سے بے زباں تھا یہ پاگل پتا بھی ہے
مانا کے تم نے پایا ہے عطار کا لقب
چمپا چمیلی، موگرا صندل پتا بھی ہے
رکھّا تھا تیرے پیار کو جس میں سنبھال کر
کانٹوں سے کھیچ گیا ہے وہ مخمل پتا بھی ہے
اس دورِ بے وفا میں جسے ہم وفا کہیں
رہتا ہے اس کی کھوج میں گوگل پتا بھی ہے
📖 सार

یہ غزل ہاشم انور ہاشم کی ایک خوبصورت اور فکر انگیز تخلیق ہے جس میں عشق، درد، یاد، بے وفائی اور انسانی جذبات کو نہایت دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر محبوب کی شخصیت، اس کی اداؤں اور جدائی کے اثرات کو مختلف تشبیہوں کے ذریعے پیش کرتا ہے۔ کہیں آنسوؤں کو بادل سے تشبیہ دی گئی ہے تو کہیں دل کے زخموں کو مرہم کے باوجود تازہ بتایا گیا ہے۔ غزل میں محبت کی شدت، دل کی بے بسی اور موجودہ دور کی بے وفائی کا شکوہ نمایاں ہے۔ آخری شعر میں شاعر نے جدید دور کی علامت “گوگل” کا استعمال کرکے وفا کی تلاش کو منفرد ا

← पिछला अगला →
ہاشم حسین انور حسین की और रचनाएँ
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन