منقبت
سب نعمتیں خدا کی برائے بتول ہے
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 22 مئی 2026
👁 52
❤️ 1
سب نعمتیں خدا کی برائے بتول ہے
قرآں کا حرف حرف ثنائے بتول ہے
کہتے ہیں لوگ عرشِ اولی جس مقام کو
سایہ فگن وہاں بھی ردائے بتول ہے
یوں ہی خطابِ ثانیِ زَہرا نہیں ملا
زینب علی کا لہجہ ندائے بتول ہے
اعلان کر رہی ہے یہ تسبیح فاطمہ
رب کی رضا وہی جو رضائے بتول ہے
اوقات کیا ہے میری لکھوں ان کی منقبت
جو شعر ہو رہے ہیں عطائے بتول ہے
ہم جی رہے ہیں ہاشمؔ اسی کی امان میں
گھیرے ہوئے ہمیں جو دعائے بتول ہے
📖 Summary
یہ خوبصورت منقبت ہاشم انور ہاشم کی عقیدت، محبت اور روحانی وابستگی کا حسین اظہار ہے جس میں حضرت فاطمہ زہراؓ کی عظمت، شان اور فضیلت کو نہایت عقیدت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے حضرت بتولؓ کو خدا کی نعمتوں کا مرکز قرار دیتے ہوئے قرآنِ مجید کی آیات کو بھی ان کی ثنا سے منسوب کیا ہے۔ حضرت زینبؓ کے لہجے اور تسبیحِ فاطمہ کے حوالے سے اہلِ بیتؓ کی روحانی عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ شاعر اپنی شاعری کو بھی عطائے بتولؓ قرار دیتا ہے اور آخر میں ان کی دعا کو اپنی زندگی کا محافظ بیان کرتا ہے۔ اس منقبت م
#Hashim Anwar Hashim
#ہاشم انور ہاشم
#منقبت
#حضرت فاطمہ زہراؓ
#بتولؓ کی شان
#Urdu Manqabat
#Islamic Poetry Urdu
#اہلِ بیتؓ کی شان
#تسبیح فاطمہ
#Urdu Naatia Poetry
#Religious Urdu Poetry
#Urdu Adab
#Islamic Literature
#Love for Ahl e Bayt
#Manqabat e Zahra
#Urdu Shayari Islamic
#روحانی شاعری
#اردو ادب
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...




No comments yet — be the first!