اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

تیری مخمور دیکھ کر آنکھیں

انصاری عمران احمد عبداللہ جمعہ، 22 مئی 2026
👁 58 ❤️ 0
تیری مخمور دیکھ کر آنکھیں
میری ہو جاتی ہے کسر آنکھیں
راہ تکتی ہے میری تر آنکھیں
موندھ لیتا ہے جب قمر آنکھیں
تیری میری ملتی نہ گر آنکھیں
خون روتی نہ عمر بھر آنکھیں
بے ارادہ وہ ڈوب جائے گا
دیکھ لے گا جو اک نظر آنکھیں
دن گزرتا ہے تیری یادوں میں
بھیگی رہتی ہیں رات بھر آنکھیں
دیکھتی ہے کبھی ادھر تو اُدھر
رات بھر کرتی ہے سفر آنکھیں
گویا رو رو کے رات گزری ہو
سرخ تھی اس کی اس قدر آنکھیں
ختم کب ہو گا انتظار مرا
زیر ہونے کو ہے زبر آنکھیں
باپ روتے ہوۓ یہ کہتا ہے
بھیگ جاۓ نہ اے پسر آنکھیں
بند ہوتی ہیں دیکھ تیرہ شباں
ہونے دیتی نہیں سحر آنکھیں
جب بھی آۓ خیال تیرا صنم
پھڑپھڑاتی ہے میری تر آنکھیں
📖 सार

یہ نہایت دلکش اور جذبات سے بھرپور غزل عمران طالب کی رومانوی اور درد انگیز شاعری کا خوبصورت نمونہ ہے۔ شاعر نے “آنکھوں” کو مرکزی استعارہ بنا کر عشق، انتظار، جدائی، یاد اور جذباتی کیفیت کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ کبھی محبوب کی مخمور آنکھیں دل کو بے قرار کرتی ہیں، تو کبھی جدائی میں آنکھیں خون روتی محسوس ہوتی ہیں۔ غزل میں رات، یاد، اشک اور انتظار کے پُراثر مناظر قاری کے دل میں اداسی اور محبت کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ بعض اشعار میں والد کی شفقت اور دعا کا پہلو بھی شامل ہے، جو غزل کو مزید انسانی اور

← पिछला अगला →

✍️ انصاری عمران احمد عبداللہ — संक्षिप्त परिचय

انصاری عمران احمد عبداللہ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

عمران طالبؔ (اصل نام: انصاری عمران احمد عبداللہ) 12 فروری 1998 کو مالیگاؤں میں پیدا ہوئے اور وہیں کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے اپریل 2023 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور کم مدت میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ غزل، نعت اور منقبت آپ کی پسندیدہ اصنافِ سخن ہیں۔ آپ کو منتظم عاصی سے شرفِ تلمذ حاصل ہے جس نے آپ کی فکری و ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیمی اعتبار سے آپ بارہویں جماعت تک زیرِ تعلیم ر …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

انصاری عمران احمد عبداللہ की और रचनाएँ
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واسطے تجھ...
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واسطے تجھ...
آپ کا فیصلہ یہی ہے کیا آخری راستہ یہی ہے کیا ہجر یادیں ملال تنہائی کیا وفا کا صلہ یہی ہے کیا میری می...
تیری مخمور دیکھ کر آنکھیں میری ہو جاتی ہے کسر آنکھیں راہ تکتی ہے میری تر آنکھیں موندھ لیتا ہے جب قمر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन