نظم
ع
عبداللہ راشد ذبیحؔ
جمعرات، 21 مئی 2026
👁 12
❤️ 0
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
تھا وہ ہر لمہ خوشیوں کا اک خزانہ
وہ بارش میں کاغذ کی کشتی بنانا
بڑے فخر سے دوسروں کو سکھانا
وہ گھر سے سبق یاد کر کے نہ جانا
وہ اسکول میں مار ٹیچر کی کھانا
وہ گرمی کی چھٹی کا اعلان ہونا
وہ گرمی کی چھٹی مزے سے منانا
وہ کاغذ کے ٹکڑوں پہ چور اور سپاہی
پتنگوں کو اونچائی تک کو اُڑھانا
وہ لٹو گھمانے کا فن سیکھنا تھا
وہ مل کے شرارت وہ یاروں سے کرنا
تھی خواہش بڑے جلد ہونے کی ہم کو
ابھی آتی ہے یاد بچپن کی ہم کو
عبداللہ راشد ذبیحؔ کی مزید
ہم نے ہنس کر اسے گزارا ہے
تیرا غم بھی تو اک سہارا ہے
کوئی شکوہ نہیں زمانے سے
جو ملا ہے وہی گوار...
کامرانی ان کو ملتی ہے جہاں میں
جو جلائیں شوق کی شمعیں رواں میں
دل خیالِ یار سے مہکے ہمیشہ
جیسے...
سینوں میں قرآن ہونا چاہیے
”آدمی انسان ہونا چاہیے“
غیر سے بھی جب ملے ہنس کے ملے
ایسا ہر انسان ہو...
جس کی اردو زبان ہوتی ہے
اس کی باتوں میں جان ہوتی ہے
میری نظموں کی شان ہے اردو
سب زبانوں کی جان...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!