اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

صحرا سمندروں کی کہانی سنائے گا

ہاشم حسین انور حسین منگل، 19 مئی 2026
👁 41 ❤️ 0
صحرا سمندروں کی کہانی سنائے گا
رودادِ تس سراب روانی سنائے گا
اس پر عمل کرے گا نہ کچھ فیض پاۓگا
پڑھ کر وہ جو کتاب زبانی سنائے
آیا ہے ذکر ان کا جو اشعار میں مرے
غم کا وہی تو اصل ، معانی سنائے گا
جس کو سمجھ رہا تھا میں نادار و ناتواں
کیا تھی خبر کے بات شہَانی سنائے گا
پیاسا تمہاری دید کا آنکھوں سے ٹوٹ کر
سیلاب اپنی تشنہ دہانی سنائے گا
ہے جو درون اس کے کہے گا وہ کھل کے آج
یعنی مرے خلاف کہانی سنائے گا
ہاشم کہہ گا اچھے ہیں لمحاتِ ہجر بھی
روکر جو وصل اپنی سنانی سنائے گا
📖 सार

یہ فکری، جذباتی اور معنی آفرین غزل ہاشم انور ہاشم کی خوبصورت شاعری کا عمدہ نمونہ ہے۔ شاعر نے اس غزل میں عشق، ہجر، سراب، پیاس اور انسانی باطن کی کیفیات کو نہایت دلنشیں استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ صحرا، سمندر، سیلاب اور سراب جیسے علامتی پیکر غزل کو گہرائی اور فکری وسعت عطا کرتے ہیں۔ شاعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ محض زبانی علم یا باتیں انسان کو فیض نہیں دے سکتیں بلکہ عمل ضروری ہے۔ محبوب کی یاد، دید کی پیاس اور ہجر کے لمحات کو انتہائی سوز و اثر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ آخری شعر میں شاعر ہج

← पिछला अगला →
ہاشم حسین انور حسین की और रचनाएँ
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन