کشتیِ زیست کو طوفاں سے نکالا کس نے
یہ فکر و احساس سے بھرپور غزل اسد ہاشمی کی پختہ شاعری اور گہرے مشاہدے کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے زندگی کے طوفانوں، محبت کے احساسات، جدوجہد اور سماجی رویّوں کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ غزل میں “کشتیِ زیست”، “بحرِ ظلمات” اور “اجالا” جیسے استعارے انسانی زندگی کے دکھ، امید اور رہنمائی کی علامت بن کر سامنے آتے ہیں۔ شاعر اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ لوگ انسان کی کامیابی تو دیکھتے ہیں مگر اس کے سفر کی تکلیفیں اور قربانیاں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ آخری شعر میں معاشرتی منافقت اور عزتِ نفس کے م
✍️ اسدؔ ھاشمی — Short Introduction
اسد ؔھاشمی : فن و شخصیت
نام:- ضیاء المصطفی محمّد اسماعیل یارعلوی
تخلص:- اسد ؔہاشمی
جائے پیدائش:- مالیگاؤں
تاریخ پیدائش:- 1986-03-28
رہائش:- عباس نگر ۔ مالیگاؤں (ناسک)
پیشہ:- صنعت پارچہ بافی سے منسلک
مشغلہ:- اردو شعر و سخن کے استاد شعرائے کرام کو پڑھنا ادبی مشاعروں اور نشستوں میں شرکت کرنا۔اسدؔ ہاشمی صاحب کا شمار شہر مالیگاؤں کے ان نوجوان شعرائے کرام میں ہوتا ہے جو اردو شعر و س …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




No comments yet — be the first!