غزل
ہوگی تو کیسے ہو گی عنایت تمام شد
عبدالدیان اسدؔ
پیر، 18 مئی 2026
👁 43
❤️ 1
ہوگی تو کیسے ہو گی عنایت تمام شد
قرطاسِ دل پہ لکھی عبارت تمام شد
آنکھوں سے جوں ہی نکلا مری عرقِ انتظار
"مرتے ہوئے وجود کی حسرت تمام شد "
پیروں کے آبلوں نے سفر ترک کر دیا
نادیدہ راستوں کی مسافت تمام شد
شہرِ حریمِ ناز کو بس کہہ کے الوداع
کردی ہے عاشقوں نے عبادت تمام شد
پہنچا دیا تھا عجز نے حرمت کے درمیان
آئی ریا قریب ریاضت تمام شد
آتے ہی ہچکی ہوگئی شداد کی سنو
باغِ ارم کی آخری چاہت تمام شد
جس دم قلم کو رکھ دوں میں قرطاس پر اسد
دنیا کے سورماؤں کی طاقت تمام شد
📖 सार
یہ گہری فکری، روحانی اور علامتی غزل عبدالدیان اسد کی پختہ شاعری اور بلند تخیّل کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے عشق، انتظار، ریاضت، عجز اور انسانی خواہشات کے خاتمے کو نہایت مؤثر استعاروں میں پیش کیا ہے۔ “قرطاسِ دل”، “عرقِ انتظار”، “آبلے”، “شہرِ حریمِ ناز” اور “باغِ ارم” جیسے پیکر غزل کو کلاسیکی حسن اور معنوی وسعت عطا کرتے ہیں۔ شاعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب ریا عبادت میں شامل ہو جائے تو روحانی خلوص باقی نہیں رہتا۔ شداد اور باغِ ارم کا حوالہ دنیاوی غرور اور ناپائیداری کی علامت کے طور پر است
#Abdul Dayan Asad
#عبدالدیان اسد
#Urdu Ghazal
#Deep Urdu Poetry
#Sufi Urdu Poetry
#Philosophical Urdu Shayari
#اردو غزل
#Emotional Urdu Poetry
#Ishq Poetry Urdu
#Spiritual Urdu Shayari
#Urdu Adab
#Classical Urdu Poetry
#Literary Urdu Ghazal
#Heart Touching Poetry
#Urdu Literature
#Modern Urdu Poetry
عبدالدیان اسدؔ की और रचनाएँ
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!