اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

ملے تھے تم تو رستے کا نکلنا تو یقینی تھا

علیم طاہر اتوار، 17 مئی 2026
👁 57 ❤️ 2
ملے تھے تم تو رستے کا نکلنا تو یقینی تھا
مرے دل کا مسرت میں مچلنا تو یقینی تھا
مجھے اک کال پر تم نے رضامندی جو ظاہر کی
مرے پیروں کا وادی میں پھسلنا تو یقینی تھا
ترا احساس ہوتا تھا ہر اک دستک پہ کمرے میں
ہر اک آہٹ پہ اس دل کا دہلنا تو یقینی تھا
میں تنہا ہوں تو گرنے پر کہاں ممکن ہے اٹھ پانا
جو تم تھے ہم سفر میرے سنبھلنا تو یقینی تھا
ہماری آستینوں میں جو پلتے ہیں تو پلنے دو
مکاں میں سانپ نکلے تھے کچلنا تو یقینی تھا
کوئی روبوٹ تھوڑی تھے وہ سب انسان دشمن تھے
جو سرحد پر لگی گولی اچھلنا تو یقینی تھا
📖 Summary

یہ احساس، محبت، جدائی اور سماجی شعور سے بھرپور غزل علیم طاہر کی فکری پختگی اور جذباتی گہرائی کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے عشق کی کیفیت، محبوب کی موجودگی، تنہائی کے احساس اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ غزل میں “رستہ”، “وادی”، “آہٹ” اور “سانپ” جیسے استعارے انسانی تعلقات، اعتماد اور خطرات کی علامت بن کر سامنے آتے ہیں۔ شاعر محبوب کی قربت کو سکون اور سنبھلنے کا سبب قرار دیتا ہے، جبکہ تنہائی کو کمزوری اور بے بسی کی کیفیت سے جوڑتا ہے۔ آخری شعر میں سرحد، گولی اور انسان دشم

← Previous Next →

✍️ علیم طاہر — Short Introduction

📍 مالیگاؤں

علیم طاہر _شاعر و ادیب

غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by علیم طاہر
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے مرے وجود سے کیسے...
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد دھڑکن‌دھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس مجھ کو تیرے سنگ چلائے جانے ک...
ڈراما نگار: علیم طاہر کردار: بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ) سلمان (بابا جان کا پوتا، 20 سالہ...
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ تحریر (رائٹر) : علیم طاہر کردار: رفیق – مرکزی کردار، عام سا نوجوان جس کے دل می...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online