کربلا – نواں دن مکمل | کچھ راتیں انسان کے اندر باقی رہتی ہیں
کربلا — نواں دن 9 محرم 1448ھ
بعض دن سورج سے نہیں، دل کی دھڑکن سے پہچانے جاتے ہیں
صبح پھر آئی۔
افق پر روشنی پھر پھیلی۔
زمین پھر ویسے ہی خاموش رہی۔
ہوا پھر اپنے راستے پر چلتی رہی۔
مگر کچھ دن ایسے ہوتے ہیں
جو شروع ہی سے عام محسوس نہیں ہوتے۔
نواں دن بھی شاید ایسا ہی تھا۔
آٹھ دن گزر چکے تھے۔
وقت نے خاموشی سے اپنا سفر جاری رکھا تھا۔
اور اب—
خاموشی پہلے سے زیادہ سنائی دینے لگی تھی۔
قافلہ آگے بڑھ رہا تھا۔
ترتیب وہی تھی۔
وقار وہی تھا۔
مگر انسان جب مسلسل سفر میں رہتا ہے
تو ایک وقت آتا ہے
جہاں اُس کے اندر کا سکوت
باہر کی آوازوں سے زیادہ واضح ہونے لگتا ہے۔
شاید یہی اس دن کی پہلی کیفیت تھی۔
صبح میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا۔
جیسے روشنی جلدی میں نہ ہو۔
جیسے ہوا کچھ کہنا چاہتی ہو—
اور پھر خاموش ہو جاتی ہو۔
بعض دنوں میں ایسا ہوتا ہے۔
کوئی خبر نہیں آتی۔
کوئی منظر نہیں بدلتا۔
پھر بھی دل محسوس کرتا ہے—
وقت بدل رہا ہے۔
یہ دن بھی شاید ویسا ہی تھا۔
انسان جب بڑے مقصد کے ساتھ چلتا ہے
تو وہ ہر موڑ نہیں دیکھتا۔
وہ صرف اپنے قدم درست رکھتا ہے۔
اور بعض اوقات
یہی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔
قافلہ خاموشی سے آگے بڑھتا رہا۔
سورج بلند ہونے لگا۔
زمین اپنی وسعت میں قائم رہی۔
مگر دل—
وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔
اب سوال کم تھے۔
خاموشی زیادہ تھی۔
اور اُس خاموشی میں
ایک ایسی سنجیدگی شامل ہونے لگی تھی
جو انسان کو کمزور نہیں کرتی—
گہرا کر دیتی ہے۔
وقت کبھی اچانک نہیں آتا۔
وہ پہلے انسان کے اندر جگہ بناتا ہے۔
پھر ایک دن
اپنی پوری صورت میں سامنے آتا ہے۔
شاید نواں دن
اسی قریب آتی ہوئی کیفیت کا دن تھا۔
ابھی راستہ باقی تھا۔
ابھی وقت مکمل نہیں بولا تھا۔
مگر اندر کہیں
ایک خاموش آمادگی جنم لینے لگی تھی۔
اور انسان—
وہ اُس آمادگی کے ساتھ
اپنے قدم قائم رکھے ہوئے تھا۔
نواں دن شروع ہو چکا تھا۔
اور وقت—
اب پہلے سے زیادہ محسوس ہونے لگا تھا۔
جب وقت قریب آتا ہے تو انسان اپنی آواز آہستہ کر لیتا ہے
دن آگے بڑھ رہا تھا۔
سورج اپنی پوری روشنی کے ساتھ آسمان پر قائم تھا۔
زمین گرم تھی۔
ہوا اپنے معمول کے ساتھ چل رہی تھی۔
اور قافلہ—
وہ اب بھی اپنی ترتیب اور وقار کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔
مگر نواں دن
پچھلے دنوں جیسا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
کبھی ایسا نہیں ہوتا
کہ منظر بدل جائے۔
کبھی صرف احساس بدل جاتا ہے۔
اور پھر وہی سب کچھ بدل دیتا ہے۔
آٹھ دن کا سفر
اب ایک یاد نہیں رہا تھا۔
وہ انسان کے اندر ایک مسلسل کیفیت بننے لگا تھا۔
اب قدم صرف فاصلے طے نہیں کر رہے تھے—
وہ انسان کے اندر بھی کچھ ترتیب دے رہے تھے۔
خاموشی اب بوجھ نہیں تھی۔
وہ رفاقت بن گئی تھی۔
جیسے انسان نے قبول کر لیا ہو
کہ ہر راستہ جلدی ختم نہیں ہوتا۔
اور ہر انتظار کمزوری نہیں ہوتا۔
بعض انتظار
انسان کے ظرف کو بڑا کرتے ہیں۔
نواں دن شاید اسی ظرف کا دن تھا۔
سورج اپنی جگہ قائم تھا۔
وقت آگے بڑھ رہا تھا۔
مگر دل کے اندر
ایک اور طرح کی حرکت پیدا ہونے لگی تھی۔
کبھی انسان کو لگتا ہے
کہ سب کچھ ساکت ہے۔
حالانکہ اصل تبدیلی
اُس کے اندر چل رہی ہوتی ہے۔
شاید یہی اس دن کی کیفیت تھی۔
اب سوال بدل گئے تھے۔
یہ سوال نہیں رہا تھا
کہ کب؟
یہ احساس بننے لگا تھا
کہ جیسے بھی ہو—
قائم رہنا ہے۔
اور شاید بڑے سفر
انسان کو یہی سکھاتے ہیں۔
کہ ہر منظر پر اختیار نہیں ہوتا،
لیکن ہر قدم پر نیت باقی رہ سکتی ہے۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
دن اپنی روشنی میں قائم رہا۔
افق خاموش رہا۔
لیکن وقت—
وہ اب صرف گزرتا ہوا وقت محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
جیسے ہر لمحہ
اپنے اندر کوئی معنی لیے ہوئے ہو۔
جیسے ہر سانس
کسی آنے والی بات کے لیے
انسان کو تیار کر رہی ہو۔
دن آگے بڑھنے لگا۔
سائے بدلنے لگے۔
اور نواں دن آہستہ سے کہنے لگا:
بعض امتحان سامنے آنے سے پہلے
انسان کے اندر اترتے ہیں۔
کبھی وقت تیز نہیں چلتا، انسان اُس کے قریب ہو جاتا ہے
دن اپنی بلندی کی طرف بڑھ چکا تھا۔
سورج پورے آسمان پر پھیلا ہوا تھا۔
زمین ویسی ہی خاموش تھی۔
اور قافلہ—
وہ اب بھی اپنی ترتیب اور وقار کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔
مگر نواں دن
اپنے اندر ایک اور طرح کی گہرائی لیے ہوئے محسوس ہونے لگا تھا۔
ایسا نہیں تھا
کہ راستہ بدل گیا ہو۔
ایسا بھی نہیں تھا
کہ منظر نیا ہو گیا ہو۔
مگر انسان—
وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔
بعض سفر انسان سے رفتار نہیں مانگتے۔
وہ اُس سے برداشت مانگتے ہیں۔
اور برداشت صرف صبر نہیں ہوتی—
وہ مقصد کے ساتھ وفاداری بھی ہوتی ہے۔
شاید یہی اس دن کی کیفیت تھی۔
قافلہ خاموش تھا۔
مگر خاموشی کبھی خالی نہیں ہوتی۔
وہ اپنے اندر بہت کچھ رکھتی ہے۔
سوچ۔
یاد۔
یقین۔
اور وہ سوال
جو انسان زبان سے نہیں پوچھتا۔
وقت آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔
سورج اپنی جگہ قائم تھا۔
مگر دل کے اندر
ایک اور طرح کا احساس پیدا ہونے لگا تھا۔
جیسے انسان جانتا نہ ہو
کہ آگے کیا ہے—
لیکن وہ یہ جانتا ہو
کہ اُسے رکنا نہیں۔
کبھی زندگی کے بڑے لمحے
شور کے ساتھ نہیں آتے۔
وہ خاموشی کے ساتھ قریب آتے ہیں۔
اور انسان اُنہیں
اپنے اندر پہلے محسوس کرتا ہے۔
شاید یہی نَویں دن کی دوپہر تھی۔
اب انتظار کمزور نہیں کرتا تھا۔
وہ انسان کو جمع کرنے لگا تھا۔
وہ منتشر نہیں کرتا تھا—
گہرا کرتا تھا۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
ہوا چلتی رہی۔
سائے آہستہ آہستہ بدلنے لگے۔
اور انسان نے محسوس کیا—
بعض دن ختم ہونے کے لیے نہیں آتے،
وہ انسان کے اندر ایک نئی جگہ بنانے آتے ہیں۔
ابھی شام باقی تھی۔
ابھی وقت نے اپنی پوری بات نہیں کہی تھی۔
مگر نواں دن
آہستہ آہستہ اپنے معنی واضح کرنے لگا تھا۔
اور دل—
وہ اب پہلے سے زیادہ سننے لگا تھا۔
کبھی شام سورج کے ڈھلنے سے نہیں، دل کے ٹھہر جانے سے اترتی ہے
دن اب اپنی بلندی سے اترنے لگا تھا۔
سورج آہستہ آہستہ افق کی طرف جھکنے لگا۔
روشنی ابھی موجود تھی۔
مگر اُس میں ایک ایسی نرمی شامل ہونے لگی تھی
جو دن کے اختتام کی خبر نہیں دیتی—
بلکہ انسان کو اُس کے اندر واپس لے جاتی ہے۔
قافلہ—
وہ اب بھی اپنی ترتیب کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔
قدم ویسے ہی تھے۔
راستہ بھی۔
لیکن دل—
وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔
نَو دن۔
کبھی اتنا وقت کافی ہوتا ہے
کہ انسان دنیا کو نئے انداز سے دیکھنے لگے۔
اور کبھی اتنا کافی ہوتا ہے
کہ وہ خود کو نئے انداز سے سمجھنے لگے۔
شاید یہ دن دونوں کا دن تھا۔
اب خاموشی مانوس ہو چکی تھی۔
انتظار بھی۔
اور وقت—
وہ اب بوجھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
بلکہ ایک ایسی حقیقت
جس کے ساتھ چلنا سیکھ لیا گیا ہو۔
شام ہمیشہ کچھ لے کر آتی ہے۔
دن کے شور کو سمیٹ لیتی ہے۔
اور انسان کے اندر کے سوالوں کو سامنے لے آتی ہے۔
یہ شام بھی شاید ویسی ہی تھی۔
اب سوال یہ نہیں تھا
کہ آگے کیا ہوگا۔
بلکہ شاید یہ تھا—
جو بھی ہوگا،
کیا دل اپنے مقصد پر قائم رہے گا؟
اور بعض اوقات
یہی سب سے بڑا جواب ہوتا ہے۔
سورج نیچے اترنے لگا۔
ریت کے ذروں پر روشنی بدلنے لگی۔
ہوا میں شام کی خاموشی شامل ہونے لگی۔
اور انسان نے محسوس کیا—
بعض راستے ختم ہونے سے پہلے
انسان کو مکمل کر دیتے ہیں۔
یہ دن بھی شاید ویسا ہی تھا۔
ابھی رات باقی تھی۔
ابھی وقت نے اپنا آخری صفحہ نہیں کھولا تھا۔
مگر اندر ایک ایسی آمادگی پیدا ہونے لگی تھی
جو انسان کو بے قرار نہیں کرتی—
مستحکم کرتی ہے۔
قافلہ خاموش تھا۔
مگر اُس خاموشی میں کمزوری نہیں تھی۔
وہ سکون تھا۔
وہ وقار تھا۔
وہ استقامت تھی۔
اور نَویں دن نے آہستہ سے کہا:
بعض شامیں ختم نہیں ہوتیں—
وہ انسان کے اندر ہمیشہ روشن رہتی ہیں۔
کچھ راتیں ختم نہیں ہوتیں، وہ انسان کے اندر باقی رہتی ہیں
رات اتر چکی تھی۔
دن اپنی روشنی، خاموشی اور تمام احساسات کے ساتھ پیچھے رہ گیا تھا۔
آسمان پر ستارے موجود تھے۔
زمین ویسی ہی تھی۔
ہوا ویسے ہی چل رہی تھی۔
اور قافلہ—
وہ ایک اور دن کے پار آ گیا تھا۔
نَو دن۔
یہ صرف وقت نہیں تھا۔
یہ ایک مسلسل اندرونی سفر تھا۔
اب راستہ صرف سامنے نہیں تھا—
دل کے اندر بھی ایک راستہ بن چکا تھا۔
ابتدا میں انسان راستہ دیکھتا ہے۔
پھر وہ وقت کو دیکھتا ہے۔
پھر ایک لمحہ آتا ہے
جب وہ صرف مقصد کو دیکھنے لگتا ہے۔
شاید نَویں دن کے اختتام تک
یہی کیفیت پیدا ہونے لگی تھی۔
خاموشی اب اجنبی نہیں رہی تھی۔
انتظار بوجھ نہیں رہا تھا۔
اور وقت—
وہ اب مقابل نہیں لگ رہا تھا۔
جیسے انسان نے سیکھ لیا ہو
کہ ہر سوال کا جواب فوراً نہیں ملتا۔
کچھ جواب
چلتے چلتے روشن ہوتے ہیں۔
رات کی خاموشی میں
انسان اپنے دن کو دوبارہ دیکھتا ہے۔
کیا کھویا؟
کیا پایا؟
اور بعض اوقات جواب صرف اتنا ہوتا ہے:
میں پہلے جیسا نہیں رہا۔
یہ دن بھی شاید ویسا ہی تھا۔
کوئی بڑا اعلان نہیں۔
کوئی آخری منظر نہیں۔
مگر اندر ایک ایسی استقامت پیدا ہونے لگی تھی
جو انسان کو بے آواز مضبوط کر دیتی ہے۔
قافلہ خاموش تھا۔
مگر اُس خاموشی میں کمزوری نہیں تھی۔
وہ شعور تھا۔
وہ وقار تھا۔
وہ قبولیت تھی۔
اور قبولیت ہار نہیں ہوتی—
وہ یہ جان لینا ہوتی ہے
کہ راستہ مشکل ہو سکتا ہے،
مگر مقصد واضح رہے۔
ابھی سفر مکمل نہیں ہوا تھا۔
ابھی وقت نے اپنی پوری صورت نہیں دکھائی تھی۔
لیکن نَویں دن نے اتنا ضرور سکھا دیا تھا:
کہ بعض راتیں ختم نہیں ہوتیں—
وہ انسان کے اندر چراغ بن کر رہ جاتی ہیں۔
رات اور گہری ہو گئی۔
آسمان خاموش رہا۔
اور آنے والا دن—
اب صرف ایک اور دن نہیں ہونے والا تھا۔
وہ وقت کے معنی بدلنے کے قریب تھا۔
نَویں دن کی یہ تحریر اُس مرحلے کو بیان کرتی ہے جہاں سفر محض فاصلے طے کرنے کا عمل نہیں رہتا بلکہ انسان کے اندر ایک نئی بصیرت اور خاموش طاقت پیدا کرنے لگتا ہے۔ انتظار اضطراب سے نکل کر وقار میں بدلنے لگت…
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!