اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

رات ہر رات رتجگا کیوں ہے ؟

علیم طاہر اتوار، 17 مئی 2026
👁 51 ❤️ 2
رات ہر رات رتجگا کیوں ہے؟
قافلہ یاد کا رکا کیوں ہے؟
اتنا زیادہ بھی سوچتا کیوں ہے؟
غم ترے جسم پہ سجا کیوں ہے؟
میری تنہائی پوچھتی ہے مجھے
یہ جدائی کا سلسلہ کیوں ہے؟
کوئی منزل نہیں ہے دور تلک
پھر یہ پیروں میں راستہ کیوں ہے؟
کیوں تبسم نہیں ہے چہرے پر
سوچ در سوچ آئینہ کیوں ہے؟
تم اکیلا جو چھوڑ جاتے ہو
پھر یہ سناٹا بولتا کیوں ہے؟
یہ کلینڈر جو پھڑ پھڑاتا ہے
ایسا بے چین یہ ہوا کیوں ہے ؟
صبح تک روز روز غم تیرا
میرے بستر پہ جاگتا کیوں ہے؟
چل پڑا وقت ساتھ طاہر کے
لمحہ لمحہ یہ جھومتا کیوں ہے؟
📖 सार

یہ غزل علیم طاہر کی حساس طبیعت، داخلی کرب اور فکری گہرائی کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے رات، تنہائی، یاد، جدائی اور وقت جیسے موضوعات کو سوالیہ انداز میں پیش کر کے غزل میں ایک خاص تاثیر پیدا کی ہے۔ ہر شعر انسان کے اندر چلنے والی خاموش کشمکش، بے چینی اور یادوں کے مسلسل سفر کی ترجمانی کرتا ہے۔ “قافلہ یاد کا”، “پیروں میں راستہ”، “پھڑپھڑاتا کلینڈر” اور “جاگتا غم” جیسے استعارے زندگی کی اداسی، وقت کی روانی اور تنہائی کے احساس کو نہایت مؤثر انداز میں نمایاں کرتے ہیں۔ شاعر محبوب کی جدائی کو صرف ایک واقعہ

← पिछला अगला →

✍️ علیم طاہر — संक्षिप्त परिचय

📍 مالیگاؤں

علیم طاہر _شاعر و ادیب

غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

علیم طاہر की और रचनाएँ
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے مرے وجود سے کیسے...
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد دھڑکن‌دھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس مجھ کو تیرے سنگ چلائے جانے ک...
ڈراما نگار: علیم طاہر کردار: بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ) سلمان (بابا جان کا پوتا، 20 سالہ...
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ تحریر (رائٹر) : علیم طاہر کردار: رفیق – مرکزی کردار، عام سا نوجوان جس کے دل می...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन