اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

اپنی بربادی کی معذور کہانی بھر کے

عبدالدیان اسدؔ ہفتہ، 16 مئی 2026
👁 53 ❤️ 2
اپنی بربادی کی معذور کہانی بھر کے
پھونک مارے گا چلم باز جوانی بھر کے
روز جھرنے میں منگائے گی جٹھانی بھر کے
دیکھ اک روز کسی غیر کا پانی بھر کے
دیکھنا واعظِ دوراں کا تقرب پا کر
پھوڑ ڈالے گا نئی مٹکی پرانی بھر کے
ایک دیوانہ ترے شہر سے آتے آتے
ساتھ صندوق لئے آیا نشانی بھر کے
ایک مصرعہ کسی مرحوم کی تک بندی تھی
شعر مشہور ہوا مصرعۂ ثانی بھر کے
اک برس ہولی کو ہونے میں ہے کچھ دن باقی
پان ابھی سے ہے رکھے منہ میں ممانی بھر کے
میں نے دیکھا ہے اسد کھوٹے پرانے سکے
ایک تھیلی میں رکھا کرتی تھی نانی بھر کے
📖 Summary

یہ طنز و مزاح، دیہی معاشرت اور روزمرہ زندگی کے دلچسپ مشاہدات سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی شوخ مزاجی اور منفرد اسلوب کا خوبصورت نمونہ ہے۔ شاعر نے عام گھریلو کرداروں، دیہاتی ماحول اور سماجی رویّوں کو ہلکے پھلکے مگر معنی خیز انداز میں پیش کیا ہے۔ “چلم باز جوانی”، “جٹھانی”، “ممانی” اور “نانی” جیسے الفاظ غزل کو عوامی رنگ اور لوک فضا عطا کرتے ہیں، جبکہ اشعار میں طنزیہ چبھن بھی نمایاں رہتی ہے۔ شاعر کہیں معاشرتی منافقت پر طنز کرتا ہے، کہیں انسانی عادتوں اور رسم و رواج کی دلچسپ تصویر کشی کرتا ہے۔ “شعر

← Previous Next →
More by عبدالدیان اسدؔ
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online