احمد اور ایمانداری
احمد ایک ہوشیار اور نیک لڑکا تھا۔ وہ چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ ایک دن سکول سے گھر آتے وقت اسے راستے میں ایک بٹوا ملا۔ بٹوے میں کافی پیسے تھے۔
احمد نے سوچا کہ یہ پیسے کسی نے گرائے ہیں۔ وہ انہیں گھر لے جا سکتا تھا، لیکن اس کے دل نے کہا کہ یہ غلط ہے۔
احمد نے بٹوا اٹھایا اور قریب کی دکان پر گیا۔ دکاندار نے بتایا کہ یہ محلے کے بوڑھے چچا جان کا بٹوا ہے جو ابھی ابھی یہاں سے گئے ہیں۔
احمد دوڑتا ہوا چچا جان کے پاس گیا اور انہیں بٹوا واپس کر دیا۔ چچا جان بہت خوش ہوئے اور احمد کو دعائیں دیں۔
گھر آ کر احمد نے ماں کو سب بتایا۔ ماں نے احمد کو گلے لگایا اور کہا: "بیٹا، ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔ تم نے آج مجھے بہت فخر دلایا۔"
احمد مسکرایا اور اس نے عہد کیا کہ وہ ہمیشہ سچ بولے گا اور ایمانداری کا دامن تھامے رکھے گا۔
سبق: ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔
یہ کہانی احمد نامی ایک نیک اور سمجھدار بچے کی ہے جسے راستے میں ایک بٹوا ملا جس میں پیسے تھے۔ اگرچہ وہ اسے اپنے پاس رکھ سکتا تھا، لیکن اس نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اصل مالک تک پہنچانے کا فیص…
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!