یاد پیا کی لوٹ کے آئی
یہ خوبصورت کجری منتظم عاصیؔ مالیگاؤں کے دیہی و لوک رنگ، ساون کی رومانوی فضا اور جدائی کے احساسات کی دلکش عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے برسات، بادل، کوئل، جھولے اور گھنگھور گھٹاؤں جیسے فطری مناظر کے ذریعے محبوب کی یاد کو نہایت سادہ مگر پُرتاثیر انداز میں پیش کیا ہے۔ ہر بند کے اختتام پر آنے والا مصرع “یاد پیا کی لوٹ کے آئی” پوری نظم کو ایک مترنم اور جذباتی کیفیت عطا کرتا ہے۔ کلام میں لوک موسیقی، دیہاتی ثقافت اور نسوانی جذبات کی جھلک نمایاں ہے، جہاں ساون کی ہر ادا محبوب کی یاد تازہ کر دیتی ہے۔ “دھک دھک د
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!