اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

شمع خود آپ محبت کی بجھاتے کیوں ہو

عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 40 ❤️ 2
شمع خود آپ محبت کی بجھاتے کیوں ہو
آگ نفرت کی زمانے میں لگاتے کیوں ہو
جن کی آنکھوں میں اداسی کی لہر اٹھتی ہے
اپنی محفل میں انہیں آپ بلاتے کیوں ہو
تم تو کہتے تھے کہ ہے جان سے پیارا یہ ہمیں
کوچہُ یار کو پھر چھوڑ کے جاتے کیوں ہو
دین کا غازی بنانا ہے جو بچوں کو تمہیں
فلمیں سلمان کی پھر ان کو دکھاتے کیوں ہو
چاند سورج سے ستاروں سے ضیاء لے لے کر
حسنِ بے داغ پہ تم داغ لگاتے کیوں ہو
بھولنے کے لئے مدت لگی جس بات کو وہ
آپ ہر روز مجھے یاد دلاتے کیوں ہو
کیا کہا جان ہے وہ آپ کی مجنون اسد
پھر سرِ عام اسے آپ ستاتے کیوں ہو
📖 Summary

یہ سوالیہ، سماجی اور اخلاقی شعور سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی فکری گہرائی اور اصلاحی اندازِ بیان کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں سوالات کی صورت میں انسانی رویّوں، منافقت، محبت کے دعووں اور عمل کے تضاد کو بے نقاب کیا ہے۔ ہر شعر میں ایک اخلاقی نکتہ پوشیدہ ہے، جہاں محبت بجھانے، نفرت بڑھانے، اور قول و فعل کے فرق پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ “شمع محبت”، “آگ نفرت”، اور “حسنِ بے داغ” جیسے استعارے انسانی کردار کی نرمی اور بگاڑ دونوں کو علامتی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ خاص طور پر بچوں کی تربیت اور میڈیا کے اثرات

← Previous Next →
More by عبدالدیان اسدؔ
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online