اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

محبت مل نہیں سکتی وہاں پر

عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 42 ❤️ 2
تعصب کی بکے عینک جہاں پر
محبت مل نہیں سکتی وہاں پر
مخالف ہو گئے احباب سارے
صداقت آگئی جب سے زباں پر
کرو پہلے ادب تم جان و دل سے
پھر اس کے بعد کہنا شعر ماں پر
قبیلے کو بقا بخشی ہے جس نے
وہی احساں جتائے کارواں پر
ہمیں اس قید سے آزاد کردے
ہمارا من نہیں لگتا یہاں پر
ہے ایسی شئے محبت پیار الفت
نہیں ملتی کہیں کوئی دکاں پر
اسد بغض و حسد تقدیر ہوگی
تجھے دیکھا گیا ہے آسماں پر
📖 Summary

یہ فکری، اصلاحی اور اخلاقی شعور سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کے اسلوب کی سنجیدگی اور سماجی بصیرت کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں تعصب، بغض، حسد اور سماجی تقسیم جیسے مسائل پر گہری تنقید کی ہے اور محبت، صداقت اور ادب کو انسانی معاشرے کی اصل بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے۔ “تعصب کی عینک”، “محبت کی دکان”، اور “قبیلے کی بقا” جیسے استعارے سماجی رویّوں کی خوبصورت مگر تلخ عکاسی کرتے ہیں۔ غزل میں یہ پیغام واضح ہے کہ سچائی اور محبت کا راستہ اختیار کرنے پر انسان کو مخالفت کا سامنا ضرور ہوتا ہے، مگر یہی راستہ اخ

← Previous Next →
More by عبدالدیان اسدؔ
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online