غزل
ڈور تک ثابت نہیں اعصاب کی
عبدالدیان اسدؔ
جمعہ، 15 مئی 2026
👁 41
❤️ 2
ڈور تک ثابت نہیں اعصاب کی
کر رہے ہیں بات آب و تاب کی
طفلِ کے عالم سے لے کر قبر تک
"ہم نے اک سیڑھی بنائی خواب کی"
اب تو سایہ بھی نہیں ہے میرے ساتھ
مال تھا تو بھیڑ تھی احباب کی
آج پھر سے اک نیا فرقہ بنا
آج پھر بارش ہوئی القاب کی
آرہے ہیں بس نظر عمرِ دراز
مسجدوں میں ہے قطار اسباب کی
کھڑکیاں گھر میں نہیں ہے آج سے
اور ضرورت بھی نہیں ہے باب کی
سب کا اپنا اک کلینڈر ہے اسدؔ
نوکری خطرے میں ہے مہتاب کی
📖 Summary
یہ علامتی، سماجی اور فکری غزل عبدالدیان اسد جدید انسانی زندگی کے مسائل، معاشرتی رویّوں اور داخلی اضطراب کی گہری عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں “اعصاب”، “خواب”، “احباب”، “القاب” اور “اسباب” جیسے الفاظ کے ذریعے ایک ایسا سماجی منظرنامہ پیش کیا ہے جو دکھ، تنہائی اور مادّی دنیا کی بے ثباتی کو ظاہر کرتا ہے۔ غزل میں واضح طور پر یہ احساس جھلکتا ہے کہ انسان کی ظاہری کامیابیاں اور تعلقات وقتی ہوتے ہیں، جبکہ اصل حقیقت اندرونی خالی پن اور فکری بے چینی ہے۔ “ہم نے اک سیڑھی بنائی خواب کی” اور “سب کا اپنا اک کلینڈ
#Abdul Dayan Asad
#عبدالدیان اسد
#Urdu Ghazal
#Modern Urdu Poetry
#Social Urdu Shayari
#Deep Urdu Poetry
#Philosophical Urdu Ghazal
#Urdu Adab
#Emotional Urdu Poetry
#Human Condition Poetry Urdu
#Contemporary Urdu Poet
#Thoughtful Urdu Shayari
#Reality Based Urdu Poetry
#Urdu Literature
#Heart Touchi
More by عبدالدیان اسدؔ
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...




No comments yet — be the first!