اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

پاگل نے اس کی دید کا جب دام لکھ دیا

عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 43 ❤️ 3
پاگل نے اس کی دید کا جب دام لکھ دیا
گستاخِ حسن اس نے سرِ عام لکھ دیا
سولی پہ بے نقاب ہی آنے کا تھا سوال
خامہ اٹھا کے میں نے بھی صدام لکھ دیا
اک حسن جو ہوا تھا تولد خیال سے
نادیدہ اس حسین کو پیغام لکھ دیا
کل رات اک فقیر نے آکر نہ جانے کیوں
مرقد کے سر پہ عشق کا انجام لکھ دیا
لکھی گئی کتابوں میں الفت کی داستاں
فرقت کے شعر میں نے بھی ہرگام لکھ دیا
کمزور قافیوں سے نبھاتا رہا ردیف
مقطع بچا تھا اس میں ترا نام لکھ دیا
جب قیس کا جنون اسد حد سے بڑھ گیا
لیلی نے اس کو عشق کا گلفام لکھ دیا
📖 सार

یہ تخلیقی، علامتی اور عشق و جنون سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی فکری جولانی اور استعاراتی حسن کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں “دام”، “حسن”، “صدام”، “مرقد”، “قیس” اور “لیلیٰ” جیسے تاریخی و رومانوی حوالوں کو جدید تخلیقی انداز میں برتا ہے، جس سے غزل میں کلاسیکی اور جدید شعری اسلوب کا حسین امتزاج پیدا ہوتا ہے۔ “سرِ عام لکھ دیا” اور “نام لکھ دیا” جیسی تکرار غزل کو ایک اندرونی شدت اور جذباتی تسلسل عطا کرتی ہے۔ عشق کو یہاں صرف جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک تخلیقی اور وجودی تجربہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے،

← पिछला अगला →
عبدالدیان اسدؔ की और रचनाएँ
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन