اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
مضمون

خبردار! کوئی دیکھ رہا ہے

عظمت اقبالؔ
عظمت اقبالؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 7 ❤️ 0

پچھلے دنوں ہمارے شہر میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں بد امنی پھیلنے کا خدشہ لاحق ہو گیا تھا۔ علاقے کی مسجد میں تراویح کی نماز کی امامت کرنے والے نوجوان حافظ صاحب پر مغرب کی نماز کے بعد دھار دار ہتھیار سے حملہ ہوا۔ ان کے بیان کے مطابق وہ ٹہل رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار تین نوجوان آکُر رکے اور حملہ کر کے فرار ہوگئے۔ جس جگہ یہ حادثہ پیش آیا وہ شام کے بعد کچھ سنسان ہو جاتا ہے۔ پولیس نے تحقیقات کی۔ کچھ ہی دوری پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے لیکن کسی وجہ سے کام نہیں کر رہے تھے۔ اگر یہ کام کر رہے ہوتے تو حملہ آوروں کا پکڑا جانا یقینی ہوتا۔
ایسے اور بھی کئی واقعات درپیش آتے ہیں جس میں گروہی تصادم یا کسی رنجش کے سبب حملہ کرنے جیسی وارداتیں پیش آتی ہیں۔ اس میں ملوث افراد کو علم ہوتا ہے واردات کیمرے میں قید ہو رہی ہے جو ان کے خلاف پختہ ثبوت ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود ان پر ایک جنون اور جوش حاوی ہو تا ہے اور انجام سے بے خبر واردات انجام دی جاتی ہے۔
خلاء میں سیٹلائٹ کی تنصیب سائنس و تکنالوجی کی ترقی کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ خلاء کا مشاہدہ، موسم کا حال، پانی کے ذخائر، جنگلات کی معلومات اور سرحدوں کی حفاظت کے لئے ترقی یافتہ ممالک اپنے سیٹلائیٹس کا استعمال کرتے ہیں۔
سیٹلائٹ کے ذریعے لی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے مشاہدے سے قدرتی آفات اور جنگی سرگرمیوں وغیرہ کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔ ان تصویروں اور ویڈیوز کی بنیاد پر دنیا کے ممالک اپنی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ جنگ کے حالات میں سیٹلائیٹ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
مشینی اور مصنوعی آنکھیں خلاء ہی نہیں زمین پر بھی نگرانی کر رہی ہیں۔ اہم چوک چوراہوں، راستوں،عوامی مقامات، سرکاری و نجی دفاتر، کارخانوں، بازاروں، دکانوں اور مکانات پر حفاظتی مقاصد کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کئے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس مقصد میں پوری طرح کامیابی حاصل ہوئی ہے؟ چوری ڈکیتی کی وارداتیں پھر بھی ہوتی ہیں۔ دفاتر میں بے راہ روی، افسران کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور رشوت خوری جیسی‘‘روایتی رسومات‘‘کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
مہاراشٹر حکومت کے محکمہ تعلیم نے بورڈ امتحانات میں شفافیت لانے کے لئے حالیہ دنوں مختلف اہم فیصلے لئے ہیں۔ اس کے تحت امتحان گاہ میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب ہے۔ تمام ہی امتحانی مراکز پر اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ہر کمرے میں سی سی ٹی وی نصب رہیں گے۔ ساتھ ہی امتحان گاہ میں نگراں اساتذہ کے موبائل فون پر گوگل میٹ کی لنک شیئر کی جاتی ہے جسے جوائنٹ کر کے امتحان گاہ میں موبائیل مخصوص پوزیشن پر رکھنا ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے امتحانی کمرے کا پورا منظر دکھائی پڑتا ہے۔ اس طرح کے انتظامات سے امتحان میں ہونے والی بد انتظامیوں اور نقل نویسی جیسی سرگرمیوں پر قابو پانا ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر کچھ معاملات اس طرح پیش آئے کہ امتحان گاہ میں نگراں بے خوف و خطر طلباء کو نقل نوویسی میں مد د فراہم کر رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو نے کے باوجود، بے قاعدہ سرگرمی انجام دینے کی پاداش میں گرفت میں آنے کے خوف سے بے پرواہ ہوکر اساتذہ کی ‘‘خدمات‘‘ کی انجام دہی حیرت انگیز ہی نہیں مضحکہ خیز بھی ہے۔ سی سی ٹی وی کی نظروں میں آنے کے سبب کئی جگہ اساتذہ، طلباء و منتظمین پر کاروائی بھی کی گئی۔
کسی عوامی مقام، نجی اور سرکاری دفاتر پر کیمرے کی تنصیب مخفی نہیں ہوتی۔ واضح الفاظ میں تحریر ہوتا ہے‘‘ خبردار! آپ کیمرے کی نگرانی میں ہے۔’’
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیمرے کے مخفی رکھنے کی بجائے اس سے باخبر کیوں کیا جاتا ہے؟
ایک مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ مجرمانہ ذہن رکھنے والے افراد چوکنا ہو جائے اور کوئی غیر قانونی حرکت نا کریں۔ دوسرا، یہ ہدایت نفسیاتی طور پر اثر انداز بھی ہوتی ہے۔ساتھ ہی اس مقام پر آنے والے افراد کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ لوگوں کے نجی معاملات اور سرگرمیوں کا تحفظ ہو اس بات کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے۔
کہیں نا کہیں کیمرے کا ڈر انسانوں کو غیر اخلاقی حرکتیں کرنے سے روکتا ہے، غیر قانونی سر گرمیوں کی روک تھام کرتا ہے، عام لوگوں کے دلوں میں تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے، نظم و نسق قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، املاک کی حفاظت ہوتی ہے۔ کیمرے لوگوں کو قانون کی پاسداری کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور ایک مثالی اور اچھے سماج و معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دنیا و ی معاملات سے ہٹ کر غور کریں کہ قران میں مومنین کے لئے ہدایت ہے،
‘‘اور اللہ تمہارے ہر کام کو دیکھ رہا ہے۔’’
(سورۃ الحدید، آیت۴)
کیا ہی بہتر ہو کہ ہم اس ہدایت کو اپنی روز مرہ کے معمولات کا حصہ بنا لیں کہ ہمارے اعمال سے کیمرے کی زد میں ہیں۔ ہمارے چھوٹے بڑے اعمال اور تمام سرگرمیاں ریکارڈ ہو رہی ہیں۔ یہ عمل متواتر جاری ہے۔ ہمارا یہ تقویٰ نا صرف ہمیں گناہوں سے بچانے کا سبب بنے گا بلکہ ایک اچھے سماج اور بہتر معاشرے کی تشکیل میں ہم اہم کردار بھی ادا کرسکیں گے۔
12 مارچ 2026

عظمت اقبالؔ کی مزید تحریریں
ہمارا زمانہ
ماہ رمضان میں مساجد و دیگر تقاریر میں ہونے والی تقاریر و بیانات میں مقررین اور...
آئیڈیل مین
آج وہ میڈیکل کالج میں داخلے کے مقصد سے اپنے باپ کے ساتھ کالج انتظامیہ سے ملاقا...
فضیلت
بستی کے نصف سے زیادہ افراد چودھری صاحب کے یہاں دعائیہ تقریب میں اکٹھا تھے۔ کچھ ت...
قفل
تین کمروں پر مشتمل ہمارے مکان کے درمیانی کمرے میں دیوار سے لگ کر ایک تجوری تھی۔...
مزید متعلقہ نثر
نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کی تاریخ، روحانی عظمت اور عالمی ادبی روایت | مکمل تحقیقی مقالہ
نعتِ سرورِ کونین ﷺ لکھنا، پڑھنا اور سننا اعزازِ عشقِ حقیقی اور جذبۂ ایمان کی روش...
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
ہائکو: مختصر لفظوں میں ایک وسیع کائنات
ہائکو: مختصر لفظوں میں ایک وسیع کائنات ہائکو دنیا کی مختصر ترین مگر نہایت گہر...
لوریاں: ادبِ اطفال کا نایاب باب | بچوں کی تربیت، ماں کی ممتا اور اردو لوک ادب
## لوریاں، ادب اطفال کا نایاب باب لوری گائی جانے والی صنف سخ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن