اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

جو مسافر رہِ نجات ہوئے

ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 15 مئی 2026
👁 74 ❤️ 3
جو مسافر رہِ نجات ہوئے
تلخ سب سے تعلقات ہوئے
زندگی میں جو سانحات ہوئے
بس وہی حاصلِ حیات ہوئے
گھر جو دشمن جلانے آئے تو
میرے اپنے بھی ان کے ساتھ ہوئے
کچھ سلامت نہیں رہا جن کا
وہی محفوظِ حادثات ہوئے
تب سے ہر سو مودی مودی ہے
جب سے گودی قلم دوات ہوئے
چھوڑ کر اور تو گئے لیکن
میرے اپنے نہ میرے ساتھ ہوئے
مان کو مجرم شمار مت کرنا
وہ تو مقصودِ واردات ہوئے
جا کے پردیش کیا ہوا ان کو
لوٹ آتے تھے گھر جو رات ہوئے
ہم کو کیا کچھ سکھا گئے ہاشم
وقتِ مشکل جو تجربات ہوئے
📖 Summary

یہ سماجی مشاہدے، تلخ تجربات اور داخلی کرب سے بھرپور غزل ہاشم انور ہاشم کی فکری گہرائی اور معاشرتی شعور کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعر نے زندگی کے حادثات، رشتوں کی بے وفائی، اور حالات کی سختیوں کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کیا ہے۔ “تلخ تعلقات”، “سانحات”، اور “محفوظِ حادثات” جیسے الفاظ انسانی زندگی کے تضادات اور آزمائشوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ غزل میں رشتوں کے بکھرنے، اپنوں کی بے وفائی اور وقت کی سختی کو ایک مسلسل تجربے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ آخری اشعار میں یہ احساس ابھرتا ہے کہ مشکلات ہی انس

← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online