اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

کچھ ستاروں کے سَعا کو کہکشاں کہتے ہو تم

ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 15 مئی 2026
👁 39 ❤️ 2
کچھ ستاروں کے سَعا کو کہکشاں کہتے ہو تم
” سب حقیقت چاہتے ہیں داستاں کہتے ہو تم“
ظلم استبداد سے قاصر کیا جس نے تمہیں
یاں اسی کو کامیاب و کامراں کہتے ہو تم
بھوکے پیاسوں کو ستائے بے گھروں کو مارے جو
کیوں فضیلت کا اسے اک آسماں کہتے ہو تم
کل تلک تھے سوچ کر جس کو پریشاں رات دن
آج اس ماحول کو امن و اماں کہتے ہو تم
تم نے خود گردن میں اپنی جس کو ڈالا تھا کبھی
آج اس زنجیر کو طوقِ گراں کہتے ہو تم
← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online