اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

دریا ہوں روانی میں سدا رہ نہیں سکتا

ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 8 مئی 2026
👁 39 ❤️ 3
خاموش،کہانی میں سدا رہ نہیں سکتا
"دریا ہوں روانی میں سدا رہ نہیں سکتا"
جس دور میں بھی وصل کا شاداب ہو گلشن
وہ دور کہانی میں سدا رہ نہیں سکتا
اس دور کا پنچھی ہے یہ اُڑ جاۓ گا اک دن
یہ فکرِ پرانی میں سدا رہ نہیں سکتا
آیا ہوں جہاں سے وہیں جانا ہے پلٹ کر
اس عالمِ فانی میں سدا رہ نہیں سکتا
یہ خصلتِ انسان ہے چھوڑے گا یقیناً
ہر شوق روانی میں سدا رہ نہیں سکتا
میں ناز اُٹھانے کو ترے، دل سے کہوں تو
پُر جوش گِرانی میں سدا رہ نہیں سکتا
ہاشم میں چلا چھوڑ کے یہ قصبۂ فیاض
نادار ہوں *دانی*میں سدا رہ نہیں سکتا
← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online