اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

سحرا سمندروں کی کہانی سنائے گا

ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 8 مئی 2026
👁 45 ❤️ 2
سحرا سمندروں کی کہانی سنائے گا
رودادِ تس سراب روانی سنائے گا
اس پر عمل کرے گا نہ کچھ فیض پاۓگا
پڑھ کر وہ جو کتاب زبانی سنائے
آیا ہے ذکر ان کا جو اشعار میں مرے
غم کا وہی تو اصل ، معانی سنائے گا
جس کو سمجھ رہا تھا میں نادار و ناتواں
کیا تھی خبر کے بات شہَانی سنائے گا
پیاسا تمہاری دید کا آنکھوں سے ٹوٹ کر
سیلاب اپنی تشنہ دہانی سنائے گا
ہے جو درون اس کے کہے گا وہ کھل کے آج
یعنی مرے خلاف کہانی سنائے گا
ہاشم کہہ گا اچھے ہیں لمحاتِ ہجر بھی
روکر جو وصل اپنی سنانی سنائے گا
← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online