افسانچہ
آئینہ
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 14
❤️ 1
وہ روز سوشل میڈیا پر اخلاق، انسانیت اور احترامِ آدمیت کے لمبے لمبے درس دیتا تھا۔
لوگ اس کی تحریروں پر داد دیتے، واہ واہ کرتے، اور اسے بڑا مہذب انسان سمجھتے تھے۔
ایک دن اُس کے گھر کے باہر ایک بوڑھا فقیر پانی مانگنے آیا۔
وہ غصے سے باہر نکلا اور چیخ کر بولا:
"چلو یہاں سے… ہر وقت مانگنے آ جاتے ہو!"
فقیر خاموشی سے پلٹ گیا۔
اتنے میں اُس کے موبائل پر نوٹیفکیشن آیا۔
کسی نے اُس کی نئی پوسٹ پر تبصرہ کیا تھا:
"آپ کی باتیں دل کو چھو لیتی ہیں… انسانیت آج بھی زندہ ہے!"
وہ چند لمحے اس جملے کو دیکھتا رہا…
پھر بے اختیار سامنے لگے آئینے پر نظر پڑی۔
آج پہلی بار
اُسے اپنا چہرہ اچھا نہیں لگا۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
سیڑھی
وہ کامیاب آدمی بن چکا تھا۔ اب اسے پرانے لوگ یاد نہیں تھے۔ ایک دن اُس نے اپنی پرا...
سفر
ٹرین میں ایک مزدور تھکا ہارا بیٹھا تھا۔ سامنے نوجوان سیاح تصویریں لے رہا تھا۔ نو...
کھلونا
امیر بچے نے نیا کھلونا دو منٹ کھیل کر پھینک دیا۔ نوکر کا بیٹا خاموشی سے اُسے دیک...
خواب
غریب باپ رات بھر رکشہ چلاتا رہا۔ بیٹا جاگ رہا تھا۔ باپ نے پوچھا: "سوئے نہیں...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!