اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانچہ

آئینہ

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 6 ❤️ 1

وہ روز سوشل میڈیا پر اخلاق، انسانیت اور احترامِ آدمیت کے لمبے لمبے درس دیتا تھا۔
لوگ اس کی تحریروں پر داد دیتے، واہ واہ کرتے، اور اسے بڑا مہذب انسان سمجھتے تھے۔
ایک دن اُس کے گھر کے باہر ایک بوڑھا فقیر پانی مانگنے آیا۔
وہ غصے سے باہر نکلا اور چیخ کر بولا:
"چلو یہاں سے… ہر وقت مانگنے آ جاتے ہو!"
فقیر خاموشی سے پلٹ گیا۔
اتنے میں اُس کے موبائل پر نوٹیفکیشن آیا۔
کسی نے اُس کی نئی پوسٹ پر تبصرہ کیا تھا:
"آپ کی باتیں دل کو چھو لیتی ہیں… انسانیت آج بھی زندہ ہے!"
وہ چند لمحے اس جملے کو دیکھتا رہا…
پھر بے اختیار سامنے لگے آئینے پر نظر پڑی۔
آج پہلی بار
اُسے اپنا چہرہ اچھا نہیں لگا۔

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
بھروسہ
بچہ سڑک پار کرنے سے ڈر رہا تھا۔ باپ نے کہا: "میرا ہاتھ پکڑ لو۔" بچے...
تصویرِ باپ
باپ کے انتقال کے بعد بیٹے نے اُس کی بڑی سی تصویر دیوار پر لگا دی۔ مہمان تعریف ...
کرایہ
مکان مالک ہر مہینے کرایے کیلئے شور مچاتا تھا۔ ایک دن کرایہ دار نے روتے ہوئے کہا...
آخری نوالہ
گھر میں صرف ایک روٹی بچی تھی۔ ماں نے کہا: "مجھے بھوک نہیں۔" باپ بول...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن