اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست

ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 8 مئی 2026
👁 58 ❤️ 4
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کروں کس لیے بتا
میں نے ہی وقتِ آک پکارا نہیں ہے دوست
تو جو کہے تو چھوڑ دوں میں زندگی کا ساتھ
واللہ تجھ سے کوئی بھی پیارا نہیں ہے دوست
اک پل جدا ہوا تو یہ احساس ہوگیا
تیرے بغیر میرا گزارا نہیں ہے دوست
دنیا سمجھ رہی ہے کہ میں فتحیاب ہوں
لیکن رہے یہ یاد تو ہارا نہیں ہے دوست
ڈوبا اسی میں جا کے سفینہ حیات کا
جس بحرِ بیکراں کا کنارہ نہیں ہے دوست
ہاشمؔ ، وفورِ شوق کی منزل کہے جسے
وہ شہرِ خوشخصال تمہارا نہیں ہے دوست
← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online