غزل
قید جو تھے کبھی بشارت میں
عمران طالبٓ
جمعرات، 30 اپریل 2026
👁 58
❤️ 1
قید جو تھے کبھی بشارت میں
ہو رہے ہیں وہ اب حقیقت میں
عشق میں کتنے دار پر آۓ
درج یہ بھی کرو روایت میں
حال کیا ہوگا اب خدا جانے
آ گیا ہوں تری حراست میں
دیکھ کر چہرہ تیرا لگتا ہے
آرہا ہے مزہ شرارت میں
تو ابھی آیا ہے سرِ مقتل
میں تو اوّل سے ہوں حمایت میں
چھوڑ جانے کے بعد اب تیری
زندگی ہے نہ عیش عشرت میں
✍️ عمران — Short Introduction
📍 مالیگاؤں
نام انصاری عمران احمد عبداللہ
قلمی نام عمران طالبٓ
تاریخ پیدائش 12فروری 1998
مقام مالیگاؤں
آبائی وطن مالیگاؤں
شاعری کی ابتدا اپریل 2023
پسندیدہ صنف غزل،نعوت و مناقب
شرفِ تلمذ منتظم عاصی
روزگار اسکول بیگ میکر
تعلیم بارہویں اردو
مشغلہ شاعری
غزل What is it?
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
More by عمران طالبٓ
عام ہیں قصے زندگانی کے بند اوراق ہیں جوانی کے کوئی سمجھا نہیں نہ سمجھے گا راز ایسے ہیں دارفانی کے جو...
ایسے بکھری دوات کاغذ پر جیسے تم ہو بذات کاغذ پر آنکھ تیری بنا رہا تھا میں بن گئی کائنات کاغذ پر بعد ...
عشق سے انتقال کر تے ہیں ہجر کا جو ملال کرتے ہیں یاد کر کر کے ظلم جبر تیرا اپنی آنکھوں کو لال کرتے ہی...
آپ کا فیصلہ یہی ہے کیا آخری راستہ یہی ہے کیا ہجر یادیں ملال تنہائی کیا وفا کا صلہ یہی ہے کیا میری می...




No comments yet — be the first!