دھڑکتے تلوے
از :- احمد نعیم(موت ڈاٹ کام مالیگاوں بھارت)*
صُبح ہوچکی تھی -
یا کہ _______شام -!!
کہنے والے کہتے ہیں وہ ایک بھٹکا ہوا "راہی" تھا اُس کو صرف اپنی دھن میں چلتے رہنے سے کام تھا -
اُسے دیکھا دیکھا بھی تو لوگوں نے سڑکیں ناپتے ہی دیکھا
یہ دیکھنے والوں نے دیکھا
یہ کہنے والوں نے کہا :
کہ
:: وہ بغلوں میں ہاتھ دبائے سر جھکائے کمر میں کتاب ٹھونسے چلے جا رہا ہے
اُس کے قدموں کے تلوؤں کے نیچے دور کوسوں دور تک جاتی سڑکیں تھیں
اور سر پر کھلا بےستون آسمان
اور ____
اور __یہ کہ ____کہ وہ اکیلا -! سر
تن تنہا ______!!
خود سے لاپرواہ -
بےخبر___! لا تعلق
ہمیشہ سڑکیں ہی روندتا دکھائی دیتا کہ اُسے سڑکوں سے بےپناہ عشق جو تھا
یہ عشق اُس کا اپنا تھا - کسی سے مانگا یا اُدھار لیا ہوا تو قطعی بھی نہ تھا کہ
وہ خود سے بھی بڑا بے تعلق تھا - مگر __!! مگر __؟!! اُس میں ایک بات تھی
اور یہ بات بھی بڑی معنی خیز تھی
بات یوں تھی کہ ______!!
وہ ______کہ _______"وہ "جس شہر میں آنکھیں کھولی تھیں وہی شہر اُس کے لیے اجنبی تھا -
یا ________کہ
وہ شہر کے لیے اجنبی تھا
یہ وہ کبھی نہ جان پایا
(یا ____کہ کوئی معنی ہوتے بھی ہیں یا نہیں)
ہاں مگر _______
اُس شہر کی سڑکیں" بےپناہ "اُس کی اپنی تھیں
اپنا ہوکر _____اپنا نا ہونا کیا ہے؟؟؟
وہ جب بھی اپنے آپ کو نزدیک کرتا "اپنا" دور کوسوں دور ہوجاتا
وہ جو "کوسوں" دور تھا وہ کتنے پاس تھا نزدیک تھا
یہ سب کیا ہے؟؟
کیوں ہے؟؟
کیسے ہے؟
نا __جان پایا وہ ___کبھی بھی نہ جان پایا وہ کہ اُس کا وجود ایک رد کئے ہوئے بسکٹ کی طرح تھا اور کوئی بھی اُس کی کہانی اُس کی زبانی سننا نہیں چاہتا تھا -
یہ ماتھے پر ٹنکی ہوئی آنکھوں والوں نے *"سنا"*
اور
کانوں والوں نے *"دیکھا"*
کانوں والوں نے دیکھا
اور
آنکھوں والوں نے سنا
کہ انگنت چپ ہوتے لبوں نے کہا بھی
جھلستی دُھوپ نیزے برسا رہی ہے وہ سڑکوں پر چلتا دکھائی دے جاتا ہے
طوفانی بارش ہے وہ بھیگا تنَ لیے چلے جا رہا ہے
رگوں میں برف جم رہی ہے وہ بغل میں ہاتھ ڈالے چل رہا ہے یا کہیں "چار یاری" پہ الاؤ روشن کئے رات کا اہتمام کرتا دکھائی دیتا ہے
(کیوں کرتا وہ سب؟؟)
چلتے چلتے تھک کر کہیں کسی بینچ پہ بیٹھ جائے تو آنکھیں اک ٹک آسمان میں ٹکی رہتیں
اور وہ اپنے آپ سے بےخبر
وقت سے لاپرواہ ،
آنکھوں ہی آنکھوں میں جانے کتنے نُوری سال تخیل کے پردہ سیمیں پر جی لیتا
کہ *وہ _____"وہ "____تھا*
وہ انھیں راستوں گلیوں چوک چوراہوں پہ آباد رہا
بھٹکتا رہا ایک جگ بیت گیا
کتنے موسموں کی دھوپ، چھاؤں، سرد گرم اُس نے اپنی پیٹھ پہ گزر دی تھیں
کہ ______
اُسے ____!! زندگی سے جو کچھ بھی ملنا تھا مل چکا تھا
ہاں مگر وہ شہر کے لیے اجنبی تھا یا کہ شہر اُس کے لیے اجنبی تھا وہ کبھی نہ جان پایا
مگر اُن راستوں پہ اُس کے پیروں کے تلوے ہمیشہ ٹکے ہی رہے
لگے ہی رہے
اُس نے کبھی کسی سے راستہ بھی تو نہیں پوچھا ،گلی سے شہر کے کنکر پتھر تک سے تو وہ خوب واقف تھا
کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ
اُس کا کوئی ٹھور ٹھکانہ بھی نا تھا
کبھی بس اسٹاپ پہ دکھائی دے رہا ہے تو کبھی ٹریفک سگنل کراس کرتا دکھائی دے رہا ہے کبھی ریلوے پلیٹ فارم پہ دکھائی دے جاتا تھا
کبھی لوگوں کو عجلت میں میں اپنی اپنی منزلوں کی طرف بھاگتے دیکھ رہا ہے
کسی بھٹکے مسافر کو منزل کا پتہ بتا رہا ہے
"وہ اُس طرف"
"دائیں طرف سے موڑ جائیں"
"نہیں وہ سڑک وہاں سے مڑ جاتی ہے"
" گول چوک یہاں سے دور ہے"
سنو بائیں طرف جا کر وہاں سے مڑ جائیں "
یعنی ہاتھ اور ہاتھ اس کا راستہ کے نشان ہی تو بن گئے تھے
اُس کی ہتھیلی میں کوئی دستک تک نہیں ٹھونکی گئ تھی
کہ وہ کسی اپنے "بہت اپنے" ہی جیسے در پہ دستک ہی دے دیتا مگر _______
اُس کے قدموں کو پتہ تھا
کہاں رکنا ہے ___!
کتنا رکنا ہے بے_::_!!
ایک سڑک سے دوسری سڑک تک دستک
(چپل ٹوٹنے پر بھی ایک کیل ٹھونک کر سفر دوبارا اختیاکر لیا جاتا ہے)
کہتے ہیں اُس کی آنکھوں کی پتلیوں میں کاجل کی بجائے سڑک کے ڈامر کی کالک پوتی گئ تھی جو اُسے مسلسل گھسیٹے لئیے چلی جا رہی تھیں جو اسے کبھی تھکنے نہیں دیتی -
اُس کا کوئی چہرہ اور _____نا کوئی اپنی ساخت تھی اور نا ہی اُس کے بدن پر اپنا کوئی زور تھا
ہاں مگر اُس کی ساری کائنات اور ساری حکومت اُس کے اپنے پیروں کے تلوؤں پر تھی جو اُس کے بہت اپنے بس میں تھی
یہ اُس کا اپنا اک عشق تھا
جسے اُس کی ایڑیوں نے جنم دیا تھا
یہ عشق کسی سے مانگا
______یا
. اُدھار لیا ہوا تو قطعی بھی نہ تھا
کہ ________!!!
شہر سے سڑک تک "وہ" تھا
اُس کے تلوے ہمیشہ سڑک کے سینے سے لگے رہے یہ ایک رشتہ تھا جو اسے سڑکوں سے قائم رکھے ہوئے تھا
یہ دیکھنے والوں نے سنا
یہ سننے والوں نے دیکھا
اور کہ کہ انگت بند لبوں نے بھی کہا کہ
سڑک کے سینے اور اُس کی ٹانگوں کے تلوؤں میں کتنا اپنا پن تھا اور ایک یارانہ تھا
یہ آنکھوں والوں نے سنا
یہ کانوں والوں نے دیکھا اور لبوں نے کہا
"اک کی محبت دوسرے کی محبت کے درمیان میں یہ کیسا رشتہ تھا ؟
کہ ______
وہ سڑکیں بےپناہ اُس کی اپنی تھیں
ہاں مگر وہ شہر
اُس کے لیے اجنبی تھا
یا ____
وہ شہر کے لیے اجنبی تھا -؟؟؟
یہ وہ کبھی نا جانا سکا اور ناسمجھ ہی سکا
آج نا جانے کیا اُس کے سر میں سودا سمایا تھا وہ اپنی ایڑیاں سڑک کے سینے پر مار رہا تھا ایسا تو پہلے کبھی نہیں دیکھا یا سنا گیا
ایک نگاہ نے دوسرے کو دیکھا
دوسرے نے تیسرے کو اور پھر وہ ہر نگاہ کا مرکز ہی بن بیٹھا
مگر وہ تھا اپنے عمل میں مصروف
وقت سے
نگاہ سے
بےپروا
چلتے چلتے کسی نے سر راہ پوچھ ہی لیا
"کیوں کیا ہوا آج سڑک کے سینے پر ٹھوکر؟؟؟؟"
اس نے ایک نگاہ سوال کرنے والے کی طرف اٹھا کر دیکھا پھر اپنی ایڑی سڑک کے سینے پہ رکھ دی اور کہا تو یہ کہا :-
"آج نا جانے کیوں سڑک کا دل اداس ہے" میری ایڑیوں میں سڑک کا پرہول سناٹا بول رہا ہے
اُس نے اپنے آپ سے سوال کر ڈالا
" کیوں اداس ہے سڑک "
اُس کے دھڑکتے دل کی رفتار مدھم ہونے لگی
دل بھی اداس ہو بیٹھا
اور تب ہی
*دن گزرے کل کے _____!!!*
*غم آج کا*
*اور دُکھ اب کا لیے وہ کھڑا رہا پھر ناجانے کہاں سے ایک ایسی گھنگھور گھبراہٹ اُس میں اُٹھی کہ وجود اپنی ہئیت تبدیل کرنے لگے
بدن کی تمام نسوں میں دباؤ بڑھتا چلا گیا ہونٹوں کے کونے آڑے ترچھے ہونے لگے جلد پر زردی پھیلنے لگی
پورا وجود درہم برہم ہونے لگا
ایک نا مراد سی اینٹھن ہونے لگی سانسوں کی رفتار پاؤں
پھا ڑنے لگی
کہ ___:::!!!
*آنکھیں* _______اُس کی آنکھیں ٹریفک سگنل کی بتی بن گئیں
*کان*_____اندر کا سارا گرد غبار شورُ کانوں کے دونوں سوراخ سے باہر اُبلنے لگا
*لب*_______& اُس کے لب سوکھ کر پتوں کی طرح چرا مر گے
*حلق*______اُس کی حلق کا سارا تھوک سوکھ گیا
*زبان*_________زبان سوکھ کر اُس میں دراڑیں پڑھ چکی تھی
*ناخن*_______اُس کی انگلیوں کے ناخنوں کی لالی ختم ہوچکی تھی اور وہ جھڑ کر گرنے لگے تھے
*دل*_____اُس کا چڑیا برابر دل دھڑکتا دل اُبلنے کے لیے بے قرار تھا وہ بار بار اُبل کر حلق تک آتا-
*تلوئے*______اُس کی ایڑیوں کے تلوے جابجا پھٹ چکے تھے بدن میں تپش ہونے لگی
آج سڑک اُداس تھی - آج اُس کی اپنی اپنی سڑک پر سناٹا طاری تھا اور تب ہی اُس نے اُن ہزاروں سیکنڈ کے کم وقفہ میں اپنا دھڑکتا دل
سڑک کے خالی سینے میں رکھ دیا -
اب اُس کے قدموں کے نیچے ایک دھڑکتا - دھک دھک دھک دھک دھک دھک کرتا دل تھا -
"اجنبی شہر اور سڑکوں کا مسافر" ایک گہرا علامتی اور وجودی افسانہ ہے جس میں ایک ایسے کردار کی داستان بیان کی گئی ہے جو اپنی پوری زندگی سڑکوں پر چلتے ہوئے گزارتا ہے، مگر کبھی یہ طے نہیں کر پاتا…
✍️ احمد نعیم — مختصر تعارف
مالیگاؤں, مہاراشٹر
احمد نعیم اصل نام نعیم اختر 1989 میں مالیگاؤں، مہاراشٹر کے ایک محنت کش طبقے میں پیدا ہونے والے شاعر اور ادیب ہیں۔ محدود تعلیمی پس منظر کے باوجود انہوں نے مطالعے اور فکری جستجو کے ذریعے اپنی شناخت قائم کی۔ احمد نعیم پیشے کے اعتبار سے پاورلوم لیبر ہیں، مگر ادب سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ وجودی فکر اور جدید بیانیہ ان کی تحریروں کا خاصہ ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنے خیالات بے باکی سے پ …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!