اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

ہم کے احساس کو خود کرتے وضو دیکھا ہے

ہاشم اتوار، 26 اپریل 2026
👁 67 ❤️ 2
ربِ حق ہوتے ہوئے، میں نہ تَو، تُو دیکھا ہے
ہم کے احساس کو خود کرتے وضو دیکھا ہے
کہیں کٹتا ہوا الفت کا گلو دیکھا ہے
دامنِ دل کو کہیں کرتے رفو دیکھا ہے
کہیں پر ساس، کہیں روتی بہو دیکھا ہے
”ہم نے تہذیب کی آنکھوں میں لہو دیکھا ہے“
رکھ کے سر شب کی ہتھیلی پہ قمر سوئے جب
لوریاں گاتے ستاروں کو کبھو دیکھا ہے؟
پارسائی کی قسم کھاتی ہے دنیا جس کی
اس کے ہاتھوں میں مصلے پہ سُبو دیکھا ہے
شرک و بدعات سے کچھ آگے نکل کر ہم نے
عشق والوں کا فقط ایک کفو دیکھا ہے
راہِ الفت میں کسی موڑ پہ چاہا جس نے
ہاشمؔ انور کا کھلا ہم نے قبو دیکھا ہے
← Previous Next →
More by ہاشم
ذکرِ صلّیِ اعلیٰ مصطفیٰ مصطفیٰؐ دردِ دل کی دوا مصطفیٰ مصطفیٰؐ دھیرے دھیرے سے آنکھوں کو کھولے علیؑ کہ...
راہِ الفت میں یوں نکلتا ہوں روز بنتا ہوں اور بکھرتا ہوں حادثے مجھ سے دور رہتے ہیں لےکے ماں کی دعا نک...
گزری راتوں کے آؤ خواب لکھیں "اک غزل ہم بھی کامیاب لکھیں" ایسا کوئی نہیں ہے محفل میں جس کو ...
بس تری ذات شانِ برکت ہے تیرے قبضے میں ساری قدرت ہے تیری تخلیق لاشریکَ لہٗ تیری رحمت سے محوِ رحمت ہے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online