اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
شبیر حسن خان منگل، 21 اپریل 2026
👁 11 ❤️ 1
جب سے مرنے کی جی میں ٹھانی ہے
جب سے مرنے کی جی میں ٹھانی ہے
کس قدر ہم کو شادمانی ہے
شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے
یہ مرا فن خاندانی ہے
کیوں لب التجا کو دوں جنبش
تم نہ مانوگے اور نہ مانی ہے
آپ ہم کو سکھائیں رسم وفا
مہربانی ہے مہربانی ہے
دل ملا ہے جنہیں ہمارا سا
تلخ ان سب کی زندگانی ہے
کوئی صدمہ ضرور پہنچے گا
آج کچھ دل کو شادمانی ہے
← پچھلا اگلا →

✍️ شبیر حسن خان — مختصر تعارف

شبیر حسن خان
📍 ملیح آباد، اتر پردیش (ہندوستان)

✨ جوش ملیح آبادی کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)

🟢 تعارف
جوش ملیح آبادی اردو کے عظیم انقلابی شاعر، ادیب اور خطیب تھے۔
ان کا اصل نام: شبیر حسن خان تھا، جبکہ تخلص “جوش” تھا۔
انہیں “شاعرِ انقلاب” بھی کہا جاتا ہے۔

📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 5 دسمبر 1898ء
📍 مقام: ملیح آباد، اتر پردیش (ہندوستان)
ایک علمی اور ادبی خاندان سے تعلق تھا

📚 تعلیم و تربیت
ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

شبیر حسن خان کی مزید
جب سے مرنے کی جی میں ٹھانی ہے کس قدر ہم کو شادمانی ہے شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے یہ مرا فن خاند...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن