نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
بزم جہاں ميں ميں بھي ہوں اے شمع! دردمند
فرياد در گرہ صفت دانہ سپند
دي عشق نے حرارت سوز دروں تجھے
اور گل فروش اشک شفق گوں کيا مجھے
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
اے آفتاب! روح و روان جہاں ہے تو
شيرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو
باعث ہے تو وجود و عدم کي نمود کا
ہے سبز تيرے دم سے چمن ہست و بود کا
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
جل رہا ہوں کل نہيں پڑتي کسي پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محيط آب گنگا تو مجھے
سرزميں اپني قيامت کي نفاق انگيز ہے
وصل کيسا ، ياں تو اک قرب فراق انگيز ہے
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
عقل نے ايک دن يہ دل سے کہا
بھولے بھٹکے کي رہنما ہوں ميں
ہوں زميں پر ، گزر فلک پہ مرا
ديکھ تو کس قدر رسا ہوں ميں
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پيار کيوں
يہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کيوں
سيماب وار رکھتي ہے تيري ادا اسے
آداب عشق تو نے سکھائے ہيں کيا اسے؟
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
مہر روشن چھپ گيا ، اٹھي نقاب روئے شام
شانہ ہستي پہ ہے بکھرا ہوا گيسوئے شام
يہ سيہ پوشي کي تياري کس کے غم ميں ہے
محفل قدرت مگر خورشيد کے ماتم ميں ہے
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
آتا ہے ياد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کي بہاريں وہ سب کا چہچہانا
آزادياں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کي
اپني خوشي سے آنا اپني خوشي سے جانا
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
ميں سوئي جو اک شب تو ديکھا يہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
يہ ديکھا کہ ميں جا رہي ہوں کہيں
اندھيرا ہے اور راہ ملتي نہيں
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
ٹہني پہ کسي شجر کي تنہا
بلبل تھا کوئي اداس بيٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئي
اڑنے چگنے ميں دن گزارا
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
لب پہ آتي ہے دعا بن کے تمنا ميري
زندگي شمع کي صورت ہو خدايا ميري
دور دنيا کا مرے دم سے اندھيرا ہو جائے
ہر جگہ ميرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
اک چراگہ ہري بھري تھي کہيں
تھي سراپا بہار جس کي زميں
کيا سماں اس بہار کا ہو بياں
ہر طرف صاف ندياں تھيں رواں
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
کوئي پہاڑ يہ کہتا تھا اک گلہري سے
تجھے ہو شرم تو پاني ميں جا کے ڈوب مرے
ذرا سي چيز ہے ، اس پر غرور ، کيا کہنا
يہ عقل اور يہ سمجھ ، يہ شعور ، کيا کہنا!
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری


