⭐ نمایاں
نظم
کربلا ایک ابدی صدا
کربلا میں
ہوا معمول کے مطابق چل رہی تھی،
...
❤️ 1
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
جاں نثار اختر
پیر، 8 جون 2026
پلا ساقیا ! بادۂ خانہ ساز
کہ ہندوستاں پر رہے ہم کو ناز
محبت ہے خاک وطن سے ہمیں
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
ابوالحسن یمین الدین خسروؔ
پیر، 8 جون 2026
کاہے کو بیاہی بدیس
کاہے کو بیاہی بدیسرے لکھی بابل مورے
کاہے کو بیاہی بدیس
بھائیوں کو دیے محلے دو محلے ہم کو دیا پردیس
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
زمانہ ديکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا
مري خموشي نہيں ہے ، گويا مزار ہے حرف آرزو کا
جو موج دريا لگي يہ کہنے ، سفر سے قائم ہے شان ميري
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
رو لے اب دل کھول کر اے ديدہء خوننابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذيب حجازي کا مزار
تھا يہاں ہنگامہ ان صحرا نشينوں کا کبھي
بحر بازي گاہ تھا جن کے سفينوں کا کبھي
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
اٹھ کہ ظلمت ہوئي پيدا افق خاور پر
بزم ميں شعلہ نوائي سے اجالا کر ديں
ايک فرياد ہے مانند سپند اپني بساط
اسي ہنگامے سے محفل تہ و بالا کر ديں
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
تلاش گوشہء عزلت ميں پھر رہا ہوں ميں
يہاں پہاڑ کے دامن ميں آ چھپا ہوں ميں
شکستہ گيت ميں چشموں کے دلبري ہے کمال
دعائے طفلک گفتار آزما کي مثال
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
سن اے طلب گار درد پہلو! ميں ناز ہوں ، تو نياز ہو جا
ميں غزنوي سومنات دل کا ، تو سراپا اياز ہو جا
نہيں ہے وابستہ زير گردوں کمال شان سکندري سے
تمام ساماں ہے تيرے سينے ميں ، تو بھي آئينہ ساز ہو جا
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
تنہائي شب ميں ہے حزيں کيا
انجم نہيں تيرے ہم نشيں کيا!
يہ رفعت آسمان خاموش
خوابيدہ زميں ، جہان خاموش
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
خاموش ہے چاندني قمر کي
شاخيں ہيں خموش ہر شجر کي
وادي کے نوا فروش خاموش
کہسار کے سبز پوش خاموش
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
جلوہ حسن کہ ہے جس سے تمنا بے تاب
پالتا ہے جسے آغوش تخيل ميں شباب
ابدي بنتا ہے يہ عالم فاني جس سے
ايک افسانہ رنگيں ہے جواني جس سے
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری
نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
قدرت کا عجيب يہ ستم ہے!
انسان کو راز جو بنايا
راز اس کي نگاہ سے چھپايا
بے تاب ہے ذوق آگہي کا
...
❤️ 0
💬 تبصرہ
🔗 شیئر
📖 پوری


