اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانہ

حنوط

حنوط
ارم رحمٰن
ارم رحمٰن پیر، 25 مئی 2026
👁 7 ❤️ 1

بارش کے بعد مٹی سے نکلتی سوندھی سوندھی خوشبو، مجھے بہت پسند تھی، سردیوں کے موسم میں دھند نتھنوں میں گھس کر سکون دیتی تھی اسی طرح میں مختلف اگر بتیوں ، لوبان ،عنبر، عود وغیرہ، دیگر مختلف عطر کی خوشبویات کی مداح تھی ۔
دراصل میں قوت شامہ سے بہت کام لیتی تھی ،راستے بھی خوشبو یا کسی خاص بو کے حوالے سے مجھے یاد رہتے تھے، اکثر دوپہر کو ظہر کی نماز کے بعد میں اپنے گھر سے کچھ فاصلے پہ سوہے بازار جسے صرافہ بازار کہا جاتاتھا، یعنی جہاں سونے کا کاروبار ہوتا ہو وہاں لمبے راستے سے جانا پسند کیاکرتی تھی، دلچسپ بات وہاں اب سونے کے علاوہ اور سارے کاروبار ہونے لگے تھے اس راستے پہ آپ کو آپ کی ضرورت کی ساری اشیاء مل جائیں گی،
آپ کی بائیک خراب ہوگئ تو اترئیے ورکشاپ میں دیجیے، ساتھ ہی گوشت کی دکان ہے، اس کے دوسری طرف پھلوں کی ریڑھی آگے چل کر سبزی کی دکان، چند قدم ہی چلیں گے تو قلفے اور فالودے والا آپ کو اور آپ فالودے کو للچائی نظروں سے دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھر سکتے ہیں۔ جب تک آپ کی بائیک ٹھیک ہوگی تو آپ سڑک کے نکڑ پہ میٹھا پان کھا کر نقلی کوکاکولا جس کو پینے کے بعد نکلنے والی ڈکار یہ ثابت کر دے گی کہ آپ لکڑ ہضم پتھر ہضم انسان ہیں، اگر چاہیں تو ضرورت کے مطابق پھل سبزی گوشت بھی خرید سکتے ہیں
بلفرض آپ کی بائیک خراب نہ بھی ہوئی ہو تو سیلون اور بیوٹی پارلر کی دکانوں پہ لگی تصویریں آپ کی نیت ضرور خراب کر سکتی ہیں، ابھی سڑک ختم نہیں ہوگی کہ مچھلی والا ایک خاص انداز میں مچھلی رکھے بیٹھا دکھائی دے گا ،ایک بڑے سے کڑاہے میں تازہ تازہ تلتی گرما گرم مچھلی اس جگہ کی خوشبو یا مہک خاص ہی ہوگی ، اگر تلنے کاوقت نہ ہوا ہو تو کچی مچھلی کی بو سے بچتے بچاتے آپ پہنچیں گے سیدھا حاذق طبیب کے شفا خانے پر، جہاں ہر طرح کی رنگ برنگی بوتلیں جن میں کوئی رنگین مائع یا جڑی بوٹیوں کا سفوف رکھاہوگا ایکبار دکان کے پاس کھڑے ہوجائیں تو آپ کو کھانسی کے شربت اور جوشاندے کی ملی جلی خوشبو محسوس ہوگی ،مذید چلیے !
تو دانتوں کا کلینک ملے گا جس کے ایک پورشن کے باہر گائناکالوجسٹ کا بڑا سا بورڈ بھی واضح نظر آئے گا کچھ دیر اور دور چلیں گے تو آپ کو جوتا گھانٹنے والا فٹ پاتھ پر مختصر سا سازوسامان رکھے کپڑا بچھائے نظر آئے گا ۔آگے چکی ملے گی آٹے کی ،اس کے پاس گزرتے گرم گرم آٹے کی بھینی بھینی خوشبو ضرور بھلی لگے گی جیسے بسکٹ فیکٹری سے بھی خوشبو آتی ہے ،ساتھ سٹیشنری کی دکان بلکل ساتھ کپڑے اوور لاک،پیکو اور لیسوں کی دکان آپ کی منتظر ہوگی،
اب آئے گی مسحور کن خوشبو کہ کچھ لمحے آپ کا دل چاہے گا وہاں رک کر خوشبو کو محسوس کیا جائے ایک گھنے برگد کے درخت کے نیچے مستطیل چبوترے پہ سبز چادر ڈال کر جس پر چاروں قل لکھے ہوتے ہیں، بچھی نظر آئے گی یہ چبوترہ محض سیمنٹ بجری کا ڈھیر نہیں بلکہ کسی اللہ والے کی قبر ہے ، کیونکہ ایک مجاور مسلسل وہاں بیٹھا رہتا ہے اور کمزور عقائد کےاکا دکا لوگ وہاں سلام کرتے دکھائی دیں گے،
بے چارے کچھ سادہ لوح تو ہاتھ اٹھائے ، دعا مانگتے بھی نظر آئیں گے،چاروں طرف دئیے جن کا تیل بہہ کر اس چادر کو داغدار کر چکا ہوگا ،مگر اگر بتیوں کی خوشبو سب پہ حاوی ہوگی ، ساتھ ہی ایک چھوٹی سی مسجد جو شاید کسی نے اپناپلاٹ دے کر اللہ کے نام پر تعمیر کروائی ہو کیونکہ دنیا میں شاید مسجد بنوانا پانچ وقت نماز پڑھنے سے آسان ہوتا ہے اور نظر بھی آتا ہے۔ مسجد شاید بہت کم بندوں کے لیے تھی کیونکہ اکثر وہاں سے گزرنے پر مشکل پڑتی ہے ،جنازہ مسجد میں رکھا جاتا ہے اور لواحقین باہر کھڑے زندہ لوگوں کوگھور رہے ہوتے ہیں شازو نادر ہی کوئی روتا ہوگا، اب یہ اس جگہ کا کمال ہے یا چھوٹی مسجد کی برکت کہ کسی کو رونا آتا ہی نہیں تھا ، کچھ لوگ تو دوسروں کو روک رہے ہوتے ہیں بس کھانا تیار ہے، جنازے کے بعد کھا کر چلیں گے تایا ابا کے بیٹے ک نکاح ہے، نجانے دیر ہو جائے ،کھانا وقت پہ ملے یا نہیں غرضیکہ مجھے یہ سب منظر دیکھتے دیکھتے چلتے رہنا اچھا لگتا ہے، عجیب سی رونق ، گہما گہمی میت سامنے مگر ہم دنیادار لوگ موت سے بے خبر اپنی اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں ،میں سیدھا چلتے چلتے کبھی کبھی کسی گلی میں مڑ جاتی تھی، کبھی کسی، کیونکہ جتنی بھی گلیاں ہیں وہ سب آگے جا کر" مین جی ٹی روڈ "پر ہی نکلتی ہیں اس لیے راستہ بھولنے کا احتمال نہیں رہتا میں ہمیشہ مختلف گلیوں سے گزرناپسند کرتی تھی کیونکہ نئے لوگ نئے جگہیں
ان راستوں سے آتیں انواع و اقسام کی خوشبو یات مجھے اچھی لگا کرتی تھیں ،اگر وہاں جانے کا ناغہ ذرا طویل ہو جائے، تو کسی نئ دکان کا اضافہ نظر آئے گا یا کسی دکان کی غیر موجودگی ،تبدیلیاں بہت جلدی جلدی وقوع پذیر ہوتی ہیں، ویسے بھی اکثر کبھی کوئی گلی بن رہی ہوتی ہے کبھی پانی یا گیس کے پائپ کے لیے ساری پکی گلی کچی مٹی کا ڈھیر بنادی جاتی، کبھی کوئی گھر بنتا تو سڑک یا گلی میں کافی دور تک اینٹوں اور ریت کا ڈھیر نظر آتا ،لوگ حسب ضرورت کچھ خود اٹھا لیتے بس کچھ نہ کچھ ادھیڑ بن لگی رہتی اور متبادل راستہ اختیار کرنا پڑتا، بالفرض اگر یہ سب نہ بھی ہوتا تب بھی گلی کا راستہ بند کرنے کے لیے تمبو لگا دئیے جاتے ، اب سمجھ نہیں آتا ، کہ لال رنگ کے ریشمی پوشش والی کرسیوں پر مہندی ،نکاح کے مہمان بیٹھے ہیں یا میت کے سوگوار ،
تمبو تو ہوتے ہی رنگ برنگے ہیں اسی طرح مختلف راستوں سے گزرتے گزرتے سب گلیاں یاد ہو گئ تھیں ،پھر اتفاق ایسا ہوا کہ الیکشن کے دنوں سے کچھ پہلے یونین کونسلر نے اپنی کارکردگی دکھانے کے چکر میں اس علاقے کی ساری گلیوں میں سیوریج سسٹم کی درستگی کی خاطر اکھاڑ پچھاڑ شروع کروا دی، کہیں سے مٹی کھدی ملتی کبھی کہیں سے سڑک ٹوٹی، سارے رستے کا بیڑہ غرق ہوگیا ،
دو تین ماہ بس جانا نہیں ہوسکا پھر جب یکا یک ہوک اٹھی تو میں والدین کے قیلولہ کرنے کے اوقات میں دوپہر کو نکل پڑی، گرم دوپہروں میں دھوپ میں پھرنا گرچہ والدین کو ناپسند تھا مگر مجھے آرام سے سب کاموں سے فراغت پا کر نکلنا اچھا لگتا تھا ایک ڈیڑھ گھنٹے کی سلجھی سمٹی سیر یا آوارہ گردی کا عجیب ہی لطف ہوتا تھا، اب جو اتنے عرصے بعد سب سے لمبے راستے سے نکل کر آخری گلی میں مڑی تو وہاں دور سے ہی گلی کے نکڑ پرایک بڑی سی دکان نظر آئی باہر شیشہ ہی شیشہ تھا ،آگے بڑھتی گئی تو پھر اس دکان کے پاس پہنچ کر عجیب سی پراسراریت محسوس ہونے لگی، شیشے میں اپنا آپ دکھائی دیتا تھا اندر کیا ہے بلکل اندازہ نہیں ہوتا تھا لیکن چونکہ باہر بورڈ لگا تھا جس پر موٹا موٹا جیسے خشک لکڑی کا رنگ ہوتا ہے سنہرا مٹیالہ سا اس رنگ میں لکھا تھا
" قدیم نوادرات " میں حیران رہ گئ کہ یہ دکان یہاں کیسے؟ ، اتنے بدذوق اور نسبتا" غریب علاقے میں اتنی قیمتی اشیاء کی دکان ،کیسے چلے گی ؟
ابھی میں باہر سے ہی تجزئیے اور مشاہدے میں لگی تھی اور اس گلی کو پہچاننے کی کوشش کرنے میں لگی تھی کہ کسی اور گلی میں تو نہیں آپہنچی تو خیال آیا کہ گلی تو پرانی لگ رہی ہے دیکھی بھالی،
مگریہ دکان پہلے نہیں تھی
کب بنی لگتی پرانی ہے لیکن نظر اب پڑی ،حیرت ہے اتنی بڑی دکان کیسے نظروں سے محو ہوئی پھر غور کیا تو محسوس ہوا کہ دکان نئ نہیں تھی بلکہ میرا وہاں سے گزرنا پہلی بار تھا خیر میں نے کچھ دیر باہر سے دیکھ پرکھ کی پھر یکا یک خیال آیا کہ اندر جا کر دیکھوں تو "کونسے نوادرات ہیں جو اس گلی کے ٹٹ پنجیے خرید سکتے ہیں" لیکن تھوڑا گھبرا رہی تھی کیونکہ اندر سے کوئی آواز نہیں آرہی تھی اندر کوئی ہے بھی یانہیں اگر بہت سارے لوگ ہیں خاموشی کیوں ہے ،کوئی پکڑ ہی نہ لے, پھر خیال آیا کہ دکان کھلی ہے بس دھکا دے کر داخل ہی ہونا ہے، ڈرنا کیسا پھر دل چونکا کہ کوئی اندر سے بند کردے فضول ترین وہم اور خدشات سر پہ سوار تھے اور ایسے موقع پر فورا" "کر ڈالو", کا لائحہ عمل میری خصلت میں تھا، جس چیز سے ڈر لگے وسوسے آئیں میں کر ڈالتی تھی پھر اللہ کا نام لے کر بھاری شیشے کا دروازہ اندر کی طرف دھکیلا صرف دروازے کی ہلکی سی چرچراہٹ ہوئی ,یکدم بلکل خاموشی ، دروازہ چھوڑتے ہی لپک کے بند ہوگیا ,اندر ساری فضا ہی عجیب بوجھل سی تھی چاروں طرف کیا تھا بعد میں دیکھتی پہلے میں نے لمبا سانس لےکر اس دکان میں پھیلی خوشبو سونگھی، وہ ،خاص قسم کا سفوف جس سے جانوروں کے جسم حنوط کیے جاتے ہیں ،اس کی تھی اور اس بو کی شدت کو کم کرنے کے لیے لیونڈر کا فریشن ائیر چھڑکا ہوا تھا دوسری بار ناک میں شاید کسی کونے میں سلگتے لو بان کی مہک بھی محسوس ہوئی دو تین لمبے سانسوں کے بعد مجھے فضا مانوس لگنے لگی
میں نے چاروں طرف دیکھا اور سوچا کیا دکان میں صرف میں ہی ہوں اور کوئی بھی نہیں، کوئی مالک ملازم کوئی تو ہوگا، کمرے میں روشنی مدھم تھی جو اس دکان کو پراسرار یا پرسکون بنانے میں کافی مددگار ثابت ہورہی تھی میں نے دائیں بائیں دیکھا کوئی بندہ نظر نہیں آیا چاروں طرف کارنس بنی ہوئی تھی چوڑی سی، جیسے پرانے گھروں میں ہوتی تھیں جب ڈریسنگ ٹیبل یا دیواروں میں فکسڈ الماری کا دور نہیں تھا ،میں نے ایک کونے سے ہر نادر نمونے کو دیکھنا شروع کیا، ہر نادر نمونہ چھوٹا تھا ،زیادہ بڑا نہیں ،کارنس پہ ان کے آگے ان کی قیمت بھی لکھی ہوئی تھی ,چھوٹے چھوٹے ہاتھی دانت کے زیور، لڑیاں،مالائیں، کانوں کے چھوٹے ٹاپس ، مختلف نگوں کے زیورات ، پتھروں کے بنے مختلف ڈیکوریشن پیس ، لکڑی یا پیتل ،برونس کی صندوقچیاں ایک ہتھیلی پہ رکھی جاسکے،
ان میں جگہ بس اتنی تھی کہ کوئی زیور رکھا جا سکتا تھا یا کوئی یاداشت کا کاغذ ،عجیب رنگ کی شکل سے پرانی لگ رہی تھیں ، مختلف رنگوں کے نگ یا پتھر بڑے پیارے تھے ان پہ قیمت کے ساتھ ان کا نام بھی لکھا تھا، زمرد،عقیق،فیروزہ،
یاقوت ،مرجان وغیرہ سب کی قیمتیں ایسی تھیں کہ ایک شوقین بندہ کچھ روپیہ خرچ کرکے حاصل کر سکتا تھا اس دائیں طرف کارنس پہ سب ایسا ہی سامان تھا، اب میری نظر سامنے دیوار کی طرف گئ تو حنوط شدہ ہرن کی کھوپڑی ،طوطا،کوا ،اور کوئی باز یا شکرا سب ایسے مجھے دیکھ رہے تھے کہ ابھی زندہ ہو جائیں گے وہاں چڑیا ،فاختہ بلبل بھی کھال میں بھس بھری موجود تھیں جیسے زندہ ہی کھڑی ہوں ، چیتا شیر وغیرہ کہاں سے آتا ، ایک عدد بلی جس کی آنکھیں بلکل سبز تھیں،
اس طرح چمک رہی تھیں کہ وہ زندہ ہے اسے مذاق میں بچوں کی کھیل کی طرح" سٹیچو" کہہ کر ساکت کر دیا ہو، یا پھر ان آنکھوں کی چمک خیرہ کردینے والے زمرد کی طرح تھی،وہ بلی بڑی خونخوار نظر آرہی تھی،اگر زیادہ دیر نگاہیں جما رکھیں تو کہیں حملہ نہ کردے ، کچھ لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی
پھر پرندوں پر نظر پڑی ان کو بھی غور سے دیکھا لیکن بلی کی آنکھیں بہت پرکشش تھیں بار بار میری توجہ اپنی طرف مبذول کروارہی تھیں، ان سب جانداروں کو بہت صفائی اور سلیقے سے مصالحہ لگا کر حنوط کیا گیا تھا اس لیے دکان کی فضا میں اسی مصالحے کی خوشبو رچی بسی تھی، ان کی قیمت اس علاقے کے بندوں کو وارا نہیں کھاتی تھی، اسلیے شاید یہ ماضی کے جاندار اور حالیہ شاندار حنوط شدگان ویسے کے ویسے ہی تھے،
ان پر ہلکی ہلکی سی گرد بھی محسوس ہوئی پھر آخری کارنس جو ہر طرح کے خنجر چاقو چھریوں کو نمایاں کر رہی تھی چمچے کانٹے کچھ پرانے برتن جو نہ جانے کس زمانے کے ہوں گے ترتیب سے لگے ہوئے تھے برتن چھوٹے تھے اور دام مناسب ، پھر بھی غریبوں کے لیے نہیں ، آخر میں خوبصورت گھڑیاں ، دیوار پہ لگی ہوئی بھی تھیں چھوٹی چھوٹی سٹینڈ پہ کھڑی ہونے والی، وال کلاک کافی بڑا دیوار پہ آویزاں تھا جس کا وہ لمبا سا پینڈولم بہت دلفریب لگ رہا تھا ان تمام اشیاء میں بوسیدگی اور انجان سی اداسی تھی عجیب رنگ اترے پھیکے یا شاید جھوٹے،
میں نے ایک چھوٹا سا گھڑیال اٹھایا بہت دلکش تھا، سنہرے اور کالے رنگ کا ،دل آگیا تھا اس پہ ،اس کی قیمت دیکھی تو وہ قابل قبول تھی اس وقت تو نہیں لیکن بعد ازاں کچھ رقم پس انداز کرکے وہ خریداجا سکتا تھا ،
منقش اور چھوٹا چمکتا ہوا پیارے سے گھڑیال نے واقعی میرادل موہ لیا تھا،
میں دیکھنے میں مگن تھی کہ ایک دم میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئ اس کارنس کے بلکل آخری کونے میں دو آنکھیں مجھے گھور رہی تھیں کمال یہ تھا کہ مجھے محسوس ہی نہیں ہو سکا تھا ،نجانےکب سے میرا تعاقب کر رہی ہوں گی،
ایک صاحب سٹول پہ براجمان تھے بیٹھنے سے پتہ لگ رہا تھا کہ وہ پستہ قد اور کمزور جسم کے مالک ہیں ان کے سر کے بال روئی کے گالوں کی طرح مکمل سفید تھے اور آنکھوں کی چمک ان کے زندہ ہونے کی واحد نشانی تھی اگر وہ آنکھیں بند کر لیتے تو پلکوں کی سفید جھالر ان صاحب کو بھی ایک حنوط شدہ مجسمہ یا بت ہی ثابت کر دیتیں ،ان کے چہرے پہ چند ثانیے نظر ٹکا کر غور کیا تو ان کی شخصیت بے ضرر محسوس ہوئی میں نے گردن کو ہلکی سے جنبش دی جیسے سلام کرتے ہیں، انھوں نے نظریں جھکا لیں چونکہ میں اس دکان کا جائزہ لے چکی تھی لہذا سلام کے بعد وہاں ٹہری نہیں،
جب باہر نکلی تو کھلی ہوا میں کھل کر سانس لیا لیکن باہر نکلتے ہی لو کے تھپیڑوں نے یہ بھی احساس دلایا کہ دکان ائیر کنڈیشنڈ تھی ،شاید گرمی سے ان جانوروں کا بھوسا پگھل سکتا تھا یا سڑاند آنے کا ڈر ہو گا،جو بھی تھا باہر نکل کر واضح فرق محسوس ہوا قید سے آزادی کا، اس دکان کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اندر جا کر لگا تھا کہ وقت تھم گیا ہے، اس کی رفتار عام وقت گزرنے کی رفتار سے کم تھی ، رکے رکے منظر ،تھما تھما وقت ، انہی سوچوں میں غلطیاں وپیچاں گھر کی طرف چلتی گئ ، طبعیت سیراب ہوگئ تھی، جیسے کہیں روح کے اندر تک وہ تمام نوادرات تہہ در تہہ سلیقے سے جم گئے ہوں پھر کافی دنوں تک باہر نکلنا نہیں ہوا کیونکہ اس مرتبہ بارشیں بہت شدت سے ہوئیں، گلیوں میں پانی کھڑا ہونا معمول تھا بارش رک بھی جاتی تو کئ دن تک بارش کا پانی گلیوں اور راستوں میں کھڑا رہتا جولائی اگست میں نجانے کتنے سالوں کے ریکارڈ ٹوٹے بادل جم کر برسا، جیسے اب کسی کو شکایت کا موقع نہیں دینا،
عاشق کی آگ بجھانی تھی اور پیاسے کی پیاس ،غرضیکہ جل تھل ایک ہوگیا ستمبر کے مہینے کا آغاز ہوئے ہفتہ دس دن ہوگئے تھے ،اور بارش ہوئے بھی ، پھر ہوک اٹھی کہ جون میں گئ تھی کہ موسم بہت خوشگوار ہو گیا ہے اب اس دکان میں جاکر اور لطف آئے گا ، اس چھوٹے سے گھڑیال کو خریدنے کے پیسے بھی جمع ہوگئے تھے بس نکل پڑی ایک دوپہر کو،
کیچڑ سے بچتے ہوئے کبھی کچے کبھی پکے راستے پہ چلتی جہاں گلیاں نیچی تھیں وہاں کچھ حساس یا سمجھدار لوگوں نے اینٹیں رکھ دی تھیں کہ ان اینٹوں پہ چل کر وہ راستہ طے کر لیا جائے ، 20 منٹ کا راستہ 35 منٹ میں طے ہوا ، وہی گلی وہی کونے کی دکان میں نے ذہن میں دہرایا ,گلی میں داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ دور بہت سا ملبہ پڑا ہے،
کئ مزدور کام میں لگے ہیں ، پہلے میں سمجھی کہ غلط گلی میں گھس گئ ہوں پھر دائیں بائیں بورڈ پڑھے تو پہچان گئ گلی وہی ہے کیونکہ میں خوشبو اور بورڈ یاد رکھتی تھی ورنہ راستے یاد رکھنے کی صلاحیت مجھ میں نہیں تھی ،آگے اور آگے پھر وہی نکڑ "یہ کیا ہوا" پھیلی ہوئی ڈھیروں اینٹیں دیکھ کر میرے منہ سے اچانک نکلا، لیکن کسی نے جواب نہیں دیا مزدور ملبہ ہٹاتے رہے پھر میں نے اونچی آواز میں ان سے دریافت کیا کہ "یہاں ایک دکان تھی نا، پرانی چیزوں کی!" جواب ملا "جی باجی! یہ اسی دکان کا ملبہ ہے "
یہ سن کر میرا منہ کھلا رہ گیا
"کیسے" کب "
سات دن پہلے جو آخری زوردار بارش ہوئی تھی وہ زمین بوس ہوگئ،" ۔۔ " کیا" اب میرے دماغ نے کام کرنا شروع کیا ،"کیسے گری٫ وہ تو پکی تھی" ، باجی دکان کے نیچے تہہ خانہ تھا ،اس نے بنیادیں کمزور کر دی تھیں جب زور کی بارش ہوئی دکان بیٹھ گئ ،یہ سن کر میرا دل بھی بیٹھ گیا، کیا سب ختم ہوگیا زمین میں دب گیا وہ گھڑیال بھی ، میں عجیب سے انداز میں بڑبڑائی ،
"سنو "اس دکان کے مالک کہاں ہیں" ، "باجی وہ بھی تہہ میں دب کے مر گئے، تین دن لگے ملبے تلے مالک کو نکالنے میں لیکن ایک بات ہے جب لاش نکالی گئی تو بلکل صحیح سلامت تھی جیسے بزرگوار آنکھیں بند کیے لیٹے ہوں"

ان کی لاش بھی حنوط ہوگئ تھی شاید

📖 خلاصہ

یہ کہانی ایک نہایت منفرد، پراسرار اور علامتی انداز میں لکھی گئی ہے جس میں خوشبو، یادداشت اور وقت کے باہمی تعلق کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ مرکزی کردار اپنی قوتِ شامہ (سونگھنے کی حس) کے ذریعے…

✍️ ارم رحمٰن — مختصر تعارف

ارم رحمٰن
📍 لاہور، پاکستان

ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …

مزید پڑھیں ←
ارم رحمٰن کی مزید تحریریں
روشنی
اسٹیج سج چکا تھا ۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ آج خلاف معمول زیادہ رش ت...
قل زردہ
بڑے سے گھر کے ،بڑے سے صحن میں، جب بڑی بی کے قل کے اہتمام میں 6 دیگیں تین بریانی ...
وحشت دروں
جون کی گرم چمکیلی دوپہر۔۔۔نیلگوں صاف شفاف آسمان ایک شوخ و چنچل طائر خراماں خرا...
نوراں
سردیوں کا آغاز ہوا چاہتا تھا ، اللہ داد کا عشق بھی انگڑائی لے کر جاگنے لگا تھا ۔...
مزید متعلقہ نثر
کشمکش
آج صبح صبح پھر شیلپا کا فون آگیا تھا۔ وکرم نے نہ جانے کیوں وہ فون ریسیو کر لیا ...
نوراں
سردیوں کا آغاز ہوا چاہتا تھا ، اللہ داد کا عشق بھی انگڑائی لے کر جاگنے لگا تھا ۔...
فضیلت
بستی کے نصف سے زیادہ افراد چودھری صاحب کے یہاں دعائیہ تقریب میں اکٹھا تھے۔ کچھ ت...
قفل
تین کمروں پر مشتمل ہمارے مکان کے درمیانی کمرے میں دیوار سے لگ کر ایک تجوری تھی۔...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن