غزل
علیم طاہر
منگل، 2 جون 2026
👁 6
❤️ 0
اپنی یادوں سے ہی مٹا دیں گے
اور کتنی اسے سزا دیں گے
طے کیا ہے ہوا کے جھونکوں نے
دیپ جلتے ہیں جو بجھا دیں گے
حسن والے نظر سے چھوتے ہی
آگ پانی میں بھی لگا دیں گے
دل سے چاہو تو ہم دکھائی دیں
سارے پردوں کو ہی ہٹا دیں گے
سر جھکانا نہیں ہے فطرت میں
سچ کی خاطر تو سر کٹا دیں گے
وہ بھی پتھر تراش کر اک دن
ہاتھ میں اک خدا تھما دیں گے
ان کی خوش فہمیاں مٹائیں گے
ہم بھی کیا ہیں انہیں بتا دیں گے
ریل آگے بڑھے گی اور طاہر
ہاتھ اٹھا کر فقط ہلا دیں گے
📖 خلاصہ
علیم طاہر کی یہ فکر انگیز غزل خودداری، سچائی، محبت، انسانی وقار اور عزم و استقلال کے موضوعات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر نے زندگی کے مختلف رویوں، انسان کی باطنی قوت اور حق گوئی کے جذبے ک…
#یاد خوش فہمی
#ریل
#پتھر
#ہاتھ
#خدا
#فطرت
#آگ
#پانی
#علیم طاہر
#علیم طاہر غزل
#اردو غزل
#جدید اردو شاعری
#خودداری کی شاعری
#سچائی کی شاعری
#حق گوئی
#عزم و استقلال
#محبت کی شاعری
#فکری شاعری
#اردو ادب
#اردو شاعر
#بہترین غزل
#کلاسیکی غزل
#شعری ادب
#اردو اشعار
#زندگی کی حقیقتیں
#انسانی وقار
#حوصلہ اور جدوجہد
✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف
📍 مالیگاؤں
علیم طاہر _شاعر و ادیب
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
علیم طاہر کی مزید
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے
جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے
مرے وجود سے ...
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد
دھڑکندھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس
مجھ کو تیرے سنگ چ...
ڈراما نگار: علیم طاہر
کردار:
بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ)
سلمان (بابا جان کا پوتا، 20...
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ
تحریر (رائٹر) : علیم طاہر
کردار:
رفیق – مرکزی کردار، عام سا نوجوان جس کے د...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!