اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانچہ

درخت

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 15 ❤️ 1

باپ نے گھر کے سامنے ایک پودا لگایا تھا۔
بیٹا اکثر مذاق اڑاتا:
"اس سے کیا ہوگا؟"
سال گزر گئے۔
درخت بڑا ہوگیا۔
ایک دن شدید دھوپ میں
بیٹا اُسی درخت کے سائے میں بیٹھا تھا۔
اُسے اچانک یاد آیا…
بعض لوگ بھی
درختوں جیسے ہوتے ہیں۔

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
جڑیں
شہر جا کر وہ بڑا آدمی بن گیا تھا۔ اب اُسے اپنا گاؤں چھوٹا لگتا تھا۔ ایک دن وہ اپ...
دستک
وہ ہمیشہ غریب رشتہ داروں سے کتراتا تھا۔ فون تک نہیں اٹھاتا تھا۔ ایک رات اُس کے د...
کھلونا
امیر بچے نے نیا کھلونا دو منٹ کھیل کر پھینک دیا۔ نوکر کا بیٹا خاموشی سے اُسے دیک...
تکیہ
بوڑھا باپ رات بھر کھانستا رہا۔ بیٹے کی نیند خراب ہوتی رہی۔ غصے میں اُس نے باپ کا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن