اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانچہ

تالیاں

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 5 ❤️ 0

وہ اسٹیج پر غربت کے خلاف جذباتی تقریر کر رہا تھا۔
لوگ زور زور سے تالیاں بجا رہے تھے۔
پروگرام ختم ہوا تو ایک غریب ملازم نے آکر کہا:
"صاحب! تین ماہ کی تنخواہ…؟"
اُس نے غصے سے جواب دیا:
"ابھی دماغ خراب مت کرو!"
سامنے ہال میں
تالیاں اب بھی گونج رہی تھیں۔

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
تالا
وہ ہر رات گھر کے سارے تالے چیک کرتا تھا۔ بڑا مطمئن رہتا۔ ایک دن بیوی نے کہا: ...
بندوق
باپ نے بیٹے کو کھلونا بندوق لا دی۔ بچہ خوش ہوکر سب پر نشانہ لگانے لگا۔ ماں نے ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں ک...
کھڑکی
بوڑھی ماں روز کھڑکی کے پاس بیٹھ جاتی تھی۔ ہر گزرتی گاڑی پر چونک اٹھتی۔ پڑوسن ن...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن