افسانچہ
تالیاں
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 13
❤️ 0
وہ اسٹیج پر غربت کے خلاف جذباتی تقریر کر رہا تھا۔
لوگ زور زور سے تالیاں بجا رہے تھے۔
پروگرام ختم ہوا تو ایک غریب ملازم نے آکر کہا:
"صاحب! تین ماہ کی تنخواہ…؟"
اُس نے غصے سے جواب دیا:
"ابھی دماغ خراب مت کرو!"
سامنے ہال میں
تالیاں اب بھی گونج رہی تھیں۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
آخری کرسی
اسٹیج پر سب بڑی کرسی کیلئے لڑ رہے تھے۔ ایک بوڑھا آدمی خاموشی سے پیچھے بیٹھ گیا۔ ...
چراغ
بجلی چلی گئی تھی۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ دادی اماں نے ایک چھوٹا سا چ...
بھروسہ
بچہ سڑک پار کرنے سے ڈر رہا تھا۔ باپ نے کہا: "میرا ہاتھ پکڑ لو۔" بچے نے...
وقت
باپ ہمیشہ کہتا تھا: "بیٹا! کبھی میرے ساتھ بیٹھ بھی جایا کرو۔" مگر بیٹا...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!