اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
شاہد وصیؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 12 ❤️ 1
دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں
اب تک نہ کوئی سامنے آیا جواب میں
تم سے ملے تو زیست کے نقشے بدل گئے
-غم زندگی کے ڈھل گئے شعر و شباب میں-
معیار اپنی سوچ کا کچھ اور کر بلند
تھوڑی تمیز چاہئے اچھے خراب میں
آلامِ روزگار کی فہرست ہے طویل
ہر شخص مبتلا ہے دکھوں کے عذاب میں
ساقی تری نگاہ میں جتنا سرور ہے
نشہ وہ دستیاب نہیں ہے شراب میں
آندھی ہوں، کوئی میل کا پتھر نہیں وصی
منزل کو رکھ کے چلتا ہوں اپنی رکاب میں
📖 خلاصہ

یہ دلکش اور فکری غزل شاہد وصی کے رومان، شعور اور خوداعتمادی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ شاعر نے ابتدا ہی میں خواب اور حقیقت کے تضاد کو نمایاں کیا ہے—ایک ایسی ملاقات جو خواب میں ہوئی مگر اس کا اثر جاگت…

← پچھلا اگلا →

✍️ شاہد وصیؔ — مختصر تعارف

شاہد وصیؔ
📍 مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش ، ہندوستان

محمد شاہد (وصیؔ) اردو زبان و ادب سے وابستہ اُن شعرا میں سے ہیں جنہوں نے اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری تجربات کو شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ آپ 15 جولائی 1990ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کے اندر ادب سے گہرا شغف پیدا ہوا، جس میں ماحول، مطالعہ اور مشاعراتی فضا نے اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شغف باقاعدہ شعری ذوق میں تبدیل ہوا اور آپ نے شعر و س …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

شاہد وصیؔ کی مزید
سنامی موج ہے دریا میں سر اٹھائے ہوئے مرا خدا مری کشتی کو ہے بچائے ہوئے نگاہِ ناز نے...
کس سوچ میں پڑا ہے کدھر جانا چاہئے جس سمت کی ہوا ہے اُدھر جانا چاہئے عائد نہ فردِ جرم کسی بے گنہ ...
دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں اب تک نہ کوئی سامنے آیا جواب میں تم سے ملے تو زیست کے نقش...
نغمہِ بربطِ نوا چپ ہے عکس بےزار آئینہ چپ ہے شوخئِ حرفِ ماجرا چپ ہے لفظ خاموش مدعا چپ ہے ر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن