اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
تبصرہ

نسل نو سے ابھرتا ہوا ایک فنکار ، شاعر ، ادیب

علیم طاہر
علیم طاہر اتوار، 17 مئی 2026
👁 40 ❤️ 1

نسل نو سے ابھرتا ہوا ایک فنکار ، شاعر ، ادیب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیم طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقالہ: ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر لیکچرار آف انگلش نورالاسلام جونیر کالج ، ممبئ ۔

علیم طاہر سے میرے روابط تقریباً اٹھارہ سالوں پر محیط ہے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم مالیگاؤں کے ایک ہی کالج میں زیر تعلیم تھے ۔ نہ میں انہیں جانتا تھا نہ وہ مجھ سے آشنا تھے ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے بالکل ہی انجان تھے ۔ تب اچانک ایک دن ہمارے کالج کے ثقافتی امور کے انچارج پروفیسر امان اللہ خان نے مجھ سے کہا کہ ذاکر تمہیں پونہ تقریر کرنے کے لیے جانا ہے ۔اور تم صرف اکیلے نہیں جاؤ گے بلکہ دو امیدوار سن کو تمہیں ساتھ لے کر جانا ہے ۔
میں نےحسب عادت کہہ دیا کہ سر ان دو امیدوار سن کا سلیکشن بھی آپ ہی کر دیجئے ۔ تب سر کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے کہ " ہمیں کسی سلیکشن کی ضرورت نہیں ہے ، میں علیم کو بہت قریب سے جانتا ہوں ۔ اسے ساتھ لے لو تمہاری تقریر کی ایک اچھی ٹیم تیار ہو جائے گی ۔ " میں نے کہا سر ۔۔کیا انہوں نے کبھی تقریر وغیرہ کی ہے ؟ پھر سے سر کا جواب علیم کی تعریف میں ہی تھا ۔" میاں تم تقریر کی بات کرتے ہو ! اس نے تو پورے ہندوستان کے مشاعروں میں نامی گرامی اور جید شاعروں کی موجودگی میں اپنا کلام سنایا ہے ۔ اور تقریر وغیرہ تو اس کے گھرانے کی آبائ میراث ہے ۔ رہا سوال تیسرے امیدوار کا تو آپ اپنی پسند سے کسی ایک کو ساتھ لے لو ویسے بھی ٹرافی تو دو امیداروں کے مارکس پر ہی حاصل ہوتی ہے ۔ اور ہاں جب تک علیم اور تمہاری ٹیم اس کالج میں موجود ہے تب تک کوئ اور سلیکشن نہیں ہوگا ۔
میں نے سوچا چلو اس شخص سے مل ہی لیا جائے سر جس کی اتنی تعریف کر رہے ہیں ۔ کالج میں تو ملاقات ممکن نہ ہوسکی پتہ پوچھتے پوچھتے گھر پر پہنچا وہاں کا منظر کسی مدرسے سے کم نہ تھا ایک پچاس باون سالہ شخص،باریش داڈھی،چہرے پر متانت اور سنجیدگی،صوفیوں کی طرح لباس ،آنکھوں میں شاعرانہ چمک اور ہونٹوں پر والہانہ مسکراہٹ لیے بیٹھے تھے۔تحیق کرنے پر پتہ چلا کہ یہ حضرت عبدالرشید ارشد مینا نگری ہیں۔ذہن پر تھوڑا زور دیا تو یاد آیا کہ ابھی چند روز پہلے ہی میں نے اسی نام کے کسی شخص کا تذکرہ اخبارات میں پڑھا تھا ۔ پھر یہ عقدہ بھی کھلا کہ یہ صاحب نہ صرف اردو کے شاعر ہیں بلکہ ہندی اور مراٹھی کے مانے ہوئے کوی بھی ہیں. جنھیں قومی سطح پر سمانیت کیا گیا ہے ۔
جب گرد وپیش کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ ایک ہنس مکھ سا نوجوان ان کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھا تھا ۔ ۔۔ ذ ہن نے کہا شاید کوئ شاگرد ہو گا ۔ یقیناً وہ شاگرد ہی تھا لیکن کوئ اور نہیں ارشد مینا نگری کا لخت جگر علیم طاہر ۔۔۔۔۔۔۔میں نے فوراً اپنا مدعا بیان کیا ۔کہ پروفیسر امان اللہ خان نے کہا ہے کہ میں تمہیں تقریر کے لیے پونہ لے جاؤں ۔ ۔کیا تمہارے پاس تقریر یا تقریر کا مواد موجود ہے ۔ ۔۔۔اتنا سننا تھا کہ ارشد صاحب میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا " اور کہا " میاں ہمیں تقریر کے لیے اب سوچنا نہیں پڑتا ۔ اور نہ ہی ہمارے بچے رٹی رٹائ تقریر کرتے ہیں ۔ الفاظ ہماری میراث ہے شاعری اور ادب ہماری شناخت ہیں ۔ آپ صرف عنوان بتا دو ۔ کس موضوع پر بولنا ہے یہ بتا دو ۔ اس سے زیادہ آپ کو کچھ اور زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ۔
یہ تھی علیم طاہر سے میری پہلی ملاقات ۔ پھر اس کے بعد ملاقاتیں بڑھنے لگیں ۔ اور مختلف پروگرامس میں ساتھ میں آنا جانا شروع ہوا ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کسی پروگرام میں ہمارا نام دیکھ کر حریف امیدوار مقابلے سے ہی دست بردار ہو جایا کرتے تھے ۔ یہ سب کالج کے دور کی باتیں تھیں ۔ وہ دور تو ختم ہو گیا ۔ لیکن علیم کے سیکھنے کی لگن آج بھی جاری ہے ۔ شاعری چونکہ علیم کی میراث تھی ۔ اس لیے اس کی طرف رغبت ایک فطری تقاضہ تھا ۔ اور رغبت بھی ایسی جو دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شاعری کا پلڑا اوپر ہی اوپر اٹھتا چلا گیا ۔ اور ڈگریاں حاصل کرنے کے عمل میں وہ پہلی سی رفتار نہ رہی ۔ ایسا نہیں کہ علیم ان حالات سے غافل تھے ۔ بلکہ وہ تو شروع سے ہی حساس طبع واقع ہوئے تھے ۔ فوراً ہی احساس بیدار ہو گیا ۔ کہ تعلیمی معاملات میں سستی مناسب نہیں ۔ ارشد صاحب چونکہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منجھے ہوئے استاد اور نبض شناس تھے ۔ فوراً علیم کو تنبیہ کی کہ پڑھائ کے معاملات میں کوتاہی ناقابل برداشت ہے ۔ تب ایک فرمابردار فرزند ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے مجھ سے کہا ذاکر بھائی مجھے ہر حال میں اس سال گریجویشن مکمل کرنا ہے ۔ غالباً یہ 1996بات ہے ۔ پھر اس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ گریجویشن کے بعد بی ایڈ کیا پھر تین مضامین میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔ اور یہاں بھی اپنی ایک الگ شناخت چھوڑ کر آگے کی راہ پر گامزن ہو گئے ۔ جہاں جہاں گئے دوستوں کی ایک طویل قطار اپنے پیچھے چھوڑتے رہے ۔
دور جدید میں نوکری حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ اور پھر مینا نگر کا ہوتے ہوئے ما لیگاؤں میں نوکری کی تلاش تو تقریباً ناممکن تھی ۔ خدا جانے کہاں کے تعلیمی اداروں میں سلیکشن کا معیار کیا ہے ؟ راقم الحروف نے بھی یہاں انٹرویو کے کئی ناکام تجربے دیکھے ہیں ۔ ایک تجربی بیان کرتا چلوں کہ کسی جونیئر کالج میں انگریزی کے لیے ٹیچر کا انتخاب کرنا تھا ۔ چونکہ ہم بھی ٹریپل ایم اے اور گولڈ میڈلسٹ تھے انٹرویو دینے پہنچ گئے ۔ ہیڈ ماسٹر اور سیکریٹری صاحب انٹرویو لے رہے تھے ، پہلے تو پانچویں کی کتاب پڑھوائ پھر چھٹی کی اور ساتویں کی پڑھوانے کے بعد کہا ہم آپ کو انفارم کر دیں گے ۔ یہ تھا ایک ٹریپل ایم اے گولڈ میڈلسٹ کا انٹرویو ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج تک ہم آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ڈاکیہ کبھی تو ہمیں خوش خبری سنائے گا ۔ ۔۔۔ہم نے تو اسے زہر ہلاہل کی طرح پی لیا ، لیکن علیم تجربہ بھی نہ کر سکے ۔ اور مجھ سے کہا کہ نوکری کرنے کے بجائے کوئی ذاتی کاروبار شروع کیا جائے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مالیگاؤں بالی ووڈ کی طرز پر مالی ووڈ بننے کے در پہ تھا ۔ یہاں کے جیالوں نے اپنی ایک الگ کوشش شروع کر دی تھی ۔ پردہء سیمیں کی آرزوئیں پروان چڑھنے لگی تھیں ۔ پھر ایک گروپ یہ طئے کر کے آگے بڑھنے لگا کہ اب مالیگاؤں میں بھی فلمیں بنائی جانیں گی ۔ اور یہ تمام کوشیشیں بار آور ثابت ہو نے لگی ۔ اولین فلم کے طور پر شعلے کا انتخاب کیا گیا ۔ جب اداکاروں کے انتخاب کا مسئلہ سامنے آیا ۔ تب دھرمیندر کے رول کے لیے سب کی نظریں علیم پر آکر رک گئی ۔ فلم کا نام رکھا گیا مالیگاؤں کے شعلے ۔ یقیناً علیم اور ساتھی فنکاروں کی فنکاری سے مزین اس فلم نے مالیگاؤں کی شہرت کے شعلے بھڑکا دیے یہاں سے علیم کو ایک نئی شناخت ملی ۔ اب وہ ایک شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ مالیگاؤں کے شعلے کے دھرمیندر اور ایک بہترین فنکار کے طور پر جانے جانے لگے ۔ یہاں بھی علیم نے مسلسل آگے بڑھنے کی روایت کو جاری رکھا ۔ اور یکے بعد دیگرے تقریبآ سترہ فلموں میں کام کیا ۔ مبصرین نے تبصرے لکھے ۔ اخبارات میں تشہیر ہوئی ۔ ریڈیو اور ٹی وی پر انٹرویو کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا ۔ ہر جگہ علیم اور ساتھی فنکاروں کی سراہنا کی گئی ۔ اور مالیگاؤں کی بنی ہوئی فلموں کی شہرت سارے عالم میں پھیلنا شروع ہو گئی ۔
فلموں کے ساتھ ساتھ علیم نے اپنی توجہ گیت لکھنے کی طرف مائل کی ۔ جب ممبئی پہنچے تو ان کی ملاقات انیس جاوید اور رفیق شیخ جیسے مخلص دوستوں سے ہوگئی ۔ انیس جاوید ایک منجھے ہوئے کلاکار ، ایک بہترین ڈرامسسٹ ، اچھے ڈیلاگ رائیٹر ، اور زبردست ھدایت کار تھے ۔ جن کی اپنی کئی فلمیں بورڈ پر تھیں ۔ کئی سیریلس ٹی وی پر جاری تھے ۔ انہوں نے علیم میں چھپے ہوئے فنکار کو پہچان لیا ۔ اور اپنی ہدایت میں بنی ہوئی فلم ابھی تو رات ہے میں گیت لکھنے اداکاری کرنے کا موقعہ دیا ۔ پھر یہ سلسلہ چل نکلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انجام کار پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا ۔ کے مصداق علیم نے پیشے پیمبری اپنانے کا ارادہ کر لیا ۔ان تمام حالات میں ان کی شاعری جاری رہی ۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ نکھرتی رہی تو بیجا نہ ہو گا ۔ تلاش معاش میں سب سے پہلے تارا پور کا رخ کیا ۔ لیکن ملازمت مستقل نہ ہونے کی بنا پر انجمن خیرالاسلام جیسے بڑے اور علمی ادارے سے وابستگی اختیار کر لی ۔ اور انجمن کی ہی ایک شاخ گورے گاؤں رائے گڑھ میں ہی مدرس بن گئے ۔
یہ تھا علیم کا ایک سفر اپنی منزل کی طرف ۔ ۔۔۔۔۔ ۔اب آیئے کچھ باتیں ان کی شاعری پر کی جانے ۔ ویسے ہم خود اس قابل کہاں کہ کسی کی شاعری پر تبصرہ کر سکیں ۔ لیکن شاعری تو ضرور سمجھ سکتے ہیں ۔ نامور انگریزی شاعر و نقاد ٹی ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ poetry is an spontaneous over flow of powerful feelings .علیم کی شاعری انہی طاقتور جذبات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ ان کے یہاں باغیانہ تیور بھی ہیں ۔ اور حسب میراث وطن پرستی کی روایت بھی عشق عاشقی کی باتیں بھی ہیں ۔اور سماجی برائیوں پر طنز بھی ، ہجر و وصال کی کہانی بھی ہے اور غم روزگار کی حکایت بھی ، مسرت و شادمانی کا نغمہ بھی ہے اور یاس و حرماں نصیب کا تذکرہ بھی ۔ وہ کون سا عصری جذبہ ہے جو شرمندہء اظہار نہیں ۔ وہ کون سا احساس ہے علیم نے جس کی ترجمانی نہ کی ہو ۔ ہمارے دکھ سکھ ارمان و آرزو مندی کی موٹر عکاسی ان کی شاعری میں بدرجہء اتم پائی جاتی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو آرائش خم و کاکل اور اندیشہ ہائے دور دراز ہماری زندگی کے محور ہیں ۔ اور یہی غزل کی بساط بھی ۔ شاعری مختلف ادوار میں بٹی ہوئی ہے ۔ کہیں روایت ہے تو کہیں جدت پسندی ، اور کہیں مابعد جدیدیت ۔ لیکن موصوف کی شاعری میں جدت کا پہلو بھی ہے ، روایات اور مابعد جدید یت کے عناصر بھی ۔ یہ اشاروں کنایوں میں اپنی بات کہنا خوب جانتے ہیں ۔ تصورات و تخیلات میں محبوب کی صورت بسائے ہوئے کہتے ہیں ۔ کہ

رنگ تازہ گلاب کی مانند
روپ جنت کے خواب کی مانند
مست ہو جائے دیکھنے والا
تیری آنکھیں شراب کی مانند
بات کرنے سے نغمگی پھوٹے
چال چنگ و رباب کی مانند

ہر چند کہ علیم کی پرورش اور تعلیم و تربیت مالیگاؤں میں ہوئی ۔ لیکن ان کا تعلق جلگاؤں ضلع کے چھوٹے سے تعلقہ مینا نگر سے یعنی دھرنگاؤں سے ہے ۔ اور گاؤں کا لفظ ذہن میں گونجتے ہی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو ، پرندوں کی چہچہاہٹ ، جھرنوں کا ترنم ، بارش کا موسم ، آبشاروں کا جلترنگ ، پرکیف ہواؤں کی گردش ، اور پنگھٹ پہ پنہاریوں کا شور ، سنائی دیتا ہے ۔ مجھے پتہ نہیں یہ اپنے گاؤں کتنی مرتبہ گیے لیکن ان کی شاعری پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ شہر کے دلوں میں گاؤں ابھی زندہ ہیں ۔ اور نوجوان نسلوں نے ابھی اپنی میراث سے منہ نہیں موڑا ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں ۔
جھیلوں میں لہروں کی لے پر جھوم اٹھے شاداب کنول
جھرنوں میں جھر جھر کا جادو آیا موسم بارش کا
بھنورے ڈالے پنچھی چہکتے ، تتلی جھومے باغوں میں
گائے پپیہا پیہو پیہو ، آیا موسم بارش کا
شاعری اپنے اندر نہ صرف اپنی ذات کے دردو غم کو سمیٹے ہوئے آگے بڑھتی ہے ۔ بلکہ مقامی ، ملکی اور بین الاقوامی مسائل کی آئینہ دار بھی ہوتی ہے ۔ شاعر ہر دکھ پر چیخ پڑتا ہے ۔ ہر کرب پر اس کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں ۔ وہ غربت ، افلاس اور ذاتی محرومی کی عکاسی اپنے فن کے ذریعے کرنے لگتا ہے ۔ اور پھر علیم بھی تو اسی دور کی پیداوار ہے ۔ اور آج کا دور ٹوٹتی ہوئی قدروں کا دور ہے ، غیر مستحکم روایات کا دور ہے ۔ سیاست ہمارے چولہے چکی تک پہنچ چکی ہے ۔ پھر موصوف بھلا اپنے آپ کو اس دور سے کہاں الگ رکھ پاتے ۔ زمانے کے دکھ ، سکھ یاس و محرومی ، برداشت کرتے رہے ، جب ظلم جبر اور مسائل کا انبار بڑھنے لگا تب ان کے قلم سے آواز آئی ۔

آج بھی اس ملک میں افلاس کے مارے ملے
ریل کے ڈبوں میں پانی بیچتے بچے ملے
نہ ملا منزل کا ہم کو دور تک نام و نشاں
ہاں مگر پیروں سے کچھ اکھڑے ہوئے رستے ملے
لڑکیاں مجبوریوں میں بکتی ہیں طاہر یہاں
جیسے مہنگے آم بھی بازار میں سستے ملے

علیم کی شاعری صرف اپنے گردوپیش پر ہی منحصر نہیں ۔ بلکہ ان کی شاعری اقوام عالم کے احساسات کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کا درس بھی رکھتی ہے ۔ فطرت کی نیرنگیوں کے ساتھ ساتھ روحانیت کی طرف بھی مائل بہ پرواز ہے ۔ لب و لہجے کی امتیازی خصوصیات کے ساتھ ساتھ ان کی بلند خیالی ، تعلیم و تربیت ، اور بصیرت و بصارت انہیں آوروں سے منفرد مقام عطا کرتی ہے ۔ دردر کی چاپلوسی اور خوشامد سے پرے ہٹ کر یہ مالک حقیقی پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔

در در انسانوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلا
مانگ خدا سے جس کے پاس تو سب ملتا ہے
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے رکھ کر یوں سوچو مت
کھوجنے والے کو دنیا میں رب ملتا ہے

علیم طاہر نے کھیلنے کودنے کی عمر سے ہی اپنے لیے شعر وادب کی سنگلاخ راہوں کا انتخاب کرلیا تھا ۔ اور ویسے بھی ابھی ان کی عمر ہی کیا ہے ؟ لیکن پھر بھی وہ اپنے شاعرانہ سفر کی تقریبآ تیس بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ ادب کے رموز سے آگاہی تو بچپن ہی سے ہوتی رہی اور آج تک جاری ہے ۔ شروعاتی دور میں ویسے بھی عاشقانہ رجحانات کی بھر مار ہوتی ہے ۔ یہ بھی اس سے بچ نہ پائے ۔ لیکن زمانے کے نشیب و فراز دیکھتے دیکھتے ان کی شاعری میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہا ۔ اعمال و اطوار ، حرکات و سکنات ، نظریات و رجحانات بدلنے کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری بھی تبدیل ہوتی گئی ۔ اور خوب سے خوب تر کا سفر جاری رہا ۔ آج موصوف جو کچھ بھی ہیں ان میں کہیں نہ کہیں ان کی شاعری کے اتار چڑھاؤ کا بڑا عمل دخل ہے ۔ ان کی شخصیت کی نشو نما میں خارجی ، داخلہ ، شعوری ، غیر شعوری ، نفسیاتی اور مادی پہلو بھی شامل رہے ہیں ۔
علیم طاہر نہ صرف خلوص و محبت کے پیکر ہیں بلکہ سماج کے دھڑکتے ہوئے دل کے عکاس بھی ۔ یہ نہ صرف شاعری کے رموز و نکات سے واقف ہیں بلکہ شاعری کے منصب سے بھی ۔ فرض شناسی انہیں ہمہ وقت سرگرم عمل رکھتی ہیں ۔ ادبی میدان کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی ان کا حریف ہو ۔ کیونکہ یہ تو سب کے حبیب اور بے لوث انسان ہیں ۔ اس لیے ان کے کلام میں ہر اس شخص کے جذبات ملتے ہیں جو سوچنے والا ذہن اور سمجھنے والا دل رکھتا ہو ۔ قومی شعور ، قومی بیداری ، قومی یکجہتی کی مثالیں بھی ان کے یہاں موجود ہیں ۔ وطن سے محبت کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔

پیاس کو خون دل پلا لینا
ملک کی آبرو بچا لینا
ہاتھ پسارے پھرتے کیوں
میٹھی میں عالم رکھو
اپنے وطن کی عظمت کا
ہاتھوں میں پرچم رکھو

قومی یکجہتی کو تاراج کرنے والوں سے یوں مخاطب ہوتے ہیں ۔
پیار سے دوستی سے چاہت سے
دل کو منسوب رکھ محبت سے
پیار دینے سے پیار ملتا ہے
صرف نفرت ملے گی نفرت سے

بخدا مجھے تبصرے کی طوالت کا علم ہے ۔ مختصراً عرض کرتا چلوں کہ یہ شاعر ، یہ ادیب ، یہ مسجد ، یہ صحافی، یہ مصنف ، یہ مؤلف ، یہ اہل قلم سب کے سب محسنین انسانیت ہیں اور علیم طاہر بھی ان سے جدا نہیں ۔

*** ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر
لیکچرار آف انگلش
نورالاسلام جونیئر کالج ممبئی

A maqala......by.....Dr.zakir khan zakir.

✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں

علیم طاہر _شاعر و ادیب

علیم طاہر کی مزید تحریریں
شادی، محبت اور قانون: بدلتے رشتوں کا المیہ | جدید معاشرے میں ازدواجی تعلقات کا بحران
شادی، محبت اور قانون: بدلتے رشتوں کا المیہ مضمون نگار: علیم طاہر _____________...
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
لوریاں: ادبِ اطفال کا نایاب باب | بچوں کی تربیت، ماں کی ممتا اور اردو لوک ادب
## لوریاں، ادب اطفال کا نایاب باب لوری گائی جانے والی صنف سخ...
بشیر بدر, ایک عہد کا اختتام، ایک یادگار رفاقت کی داستان
## بشیر بدر: ایک عہد کا اختتام، ایک یادگار رفاقت کی داستان ____________________...
مزید متعلقہ نثر
دوہا ،لفظوں کا مراقبہ اور خاموش حکمت کی شاعری
اگر شاعری کو ایک دریا مان لیا جائے تو دوہا اس دریا کا وہ قطرہ ہے جس میں پورا سمن...
جب اس دل کے دروازے پر اُن ہاتھوں نے دستک دی (تشریح کے ساتھ)
جب اس دل کے دروازے پر اُن ہاتھوں نے دستک دی یعنی نور ہی نور سراپا اُجیاروں نے د...
دستورِ بزلِ جود و سخا اختیار کر — غزل، تشریح، تبصرہ اور پیغام
دستورِ بزلِ جود و سخا اختیار کر — غزل، تشریح، تبصرہ اور پیغام ✨ تعارف یہ غزل...
ارشد مینانگری اور نعت گوئی میں ہیئتی تنوع
ارشد مینانگری اور نعت گوئی میں ہیئتی تنوع از : محمد حسین مشاہد رضوی (ارشد می...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن