اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
تبصرہ

جب اس دل کے دروازے پر اُن ہاتھوں نے دستک دی (تشریح کے ساتھ)

علیم طاہر
علیم طاہر اتوار، 17 مئی 2026
👁 110 ❤️ 1

جب اس دل کے دروازے پر اُن ہاتھوں نے دستک دی
یعنی نور ہی نور سراپا اُجیاروں نے دستک دی

خاموشی کا شہر تھا مجھ میں، سنّاٹا سا پھیلا تھا
دل کی بستی لرز گئی جب دیواروں نے دستک دی

تھک کے بیٹھا تھا میں آخر اپنی ہی دیوار کے پاس
اونگھ رہا تھا نیند کے در پر، ارمانوں نے دستک دی

بند کتابِ دل کو میں نے مدت بعد جو کھولا تھا
بھولی بسری ہر تحریر پہ پھر یادوں نے دستک دی

میں اپنے بستر پہ پڑا تھا گہری نیند کے سائے میں
خواب کے در تک آ کر وحشی آوازوں نے دستک دی

دل میرا معصوم تھا اتنا، کھول پڑا دروازے کو
اپنے ہنستے چہروں سے جب مکاروں نے دستک دی

ہر امید ہوئی تھی روشن، سائے سارے بھاگ اٹھے
خواب دریچے بند ہوئے جب زرداروں نے دستک دی

میں بھی میں تھا، ہاتھ اٹھا کر رب سے خدائی مانگ لیا
مجھ کو مسیحا جان کے در پر دیوانوں نے دستک دی

طاہرؔ راکھ تلے سینے میں اک چنگاری زندہ تھی
وقت کی پرتیں ہٹا ہٹا کر انگاروں نے دستک دی

غزل کی تشریح

یہ غزل دراصل انسانی باطن، امید، فریب، اقتدار اور روحانی آزمائش جیسے موضوعات کو علامتی انداز میں بیان کرتی ہے۔ شاعر نے “دستک” کو ایک مرکزی استعارہ بنایا ہے، جو کبھی محبت، کبھی یاد، کبھی آزمائش اور کبھی اقتدار کی طلب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

شعر 1
جب اس دل کے دروازے پر اُن ہاتھوں نے دستک دی
یعنی نور ہی نور سراپا اُجیاروں نے دستک دی

تشریح:
اس شعر میں شاعر محبت یا کسی روحانی کیفیت کے اچانک ورود کو بیان کرتا ہے۔ جب محبوب یا کوئی پاکیزہ احساس دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا وجود روشنی سے بھر گیا ہو۔ “نور” اور “اجیارے” امید، محبت اور روحانی بیداری کی علامت ہیں۔

شعر 2
خاموشی کا شہر تھا مجھ میں، سنّاٹا سا پھیلا تھا
دل کی بستی لرز گئی جب دیواروں نے دستک دی

تشریح:
شاعر اپنے اندر کے سکوت اور تنہائی کا منظر پیش کرتا ہے۔ اس کے باطن میں خاموشی کا ایک شہر آباد تھا، لیکن جب جذبات یا کسی یاد نے اس سکوت کو توڑا تو دل کی پوری بستی لرز گئی۔ “دیواروں کی دستک” دراصل اندرونی احساسات کے بیدار ہونے کا استعارہ ہے۔

شعر 3
تھک کے بیٹھا تھا میں آخر اپنی ہی دیوار کے پاس
اونگھ رہا تھا نیند کے در پر، ارمانوں نے دستک دی

تشریح:
یہاں شاعر زندگی کی تھکن اور مایوسی کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ جب انسان امید چھوڑ کر خاموشی اختیار کر لیتا ہے تب بھی اس کے خواب اور ارمان اسے جگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یعنی انسانی فطرت میں امید کبھی مکمل طور پر نہیں مرتی۔
شعر 4
بند کتابِ دل کو میں نے مدت بعد جو کھولا تھا
بھولی بسری ہر تحریر پہ پھر یادوں نے دستک دی

تشریح:
دل کو کتاب سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جب شاعر نے عرصے بعد اپنے ماضی کو یاد کیا تو پرانی یادیں پھر سے زندہ ہو گئیں۔ یہ شعر انسانی یادداشت اور جذبات کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔

شعر 5
میں اپنے بستر پہ پڑا تھا گہری نیند کے سائے میں
خواب کے در تک آ کر وحشی آوازوں نے دستک دی

تشریح:
یہ شعر ایک اضطراب اور خوف کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انسان جب سکون اور خواب کی دنیا میں ہوتا ہے تب بھی بیرونی شور، معاشرتی مسائل یا اندرونی خوف اس کے سکون کو توڑ دیتے ہیں۔

شعر 6
دل میرا معصوم تھا اتنا، کھول پڑا دروازے کو
اپنے ہنستے چہروں سے جب مکاروں نے دستک دی

تشریح:
یہ شعر انسانی سادگی اور معاشرتی فریب کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کا دل اتنا معصوم تھا کہ اس نے ہر دستک پر دروازہ کھول دیا، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ لوگ مکار اور دھوکے باز تھے۔

شعر 7
ہر امید ہوئی تھی روشن، سائے سارے بھاگ اٹھے
خواب دریچے بند ہوئے جب زرداروں نے دستک دی

تشریح:
“زردار” یعنی دولت مند یا طاقتور لوگ۔ شاعر یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب دولت اور اقتدار کے حامل لوگ معاشرے میں مداخلت کرتے ہیں تو اکثر خواب اور امیدیں ختم ہو جاتی ہیں۔ یعنی طاقت اور دولت کبھی کبھی انسانی خوابوں پر سایہ ڈال دیتی ہے۔

شعر 8
میں بھی میں تھا، ہاتھ اٹھا کر رب سے خدائی مانگ لیا
مجھ کو مسیحا جان کے در پر دیوانوں نے دستک دی

تشریح:
یہ شعر غزل کا سب سے اہم اور معنی خیز شعر ہے۔ اس میں ایک تاریخی و علامتی حوالہ پوشیدہ ہے۔
قدیم روایتوں میں ذکر ملتا ہے کہ مصر کے بادشاہ Pharaoh کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ لوگ اس کے پاس آ کر بارش، رزق اور دیگر حاجات کی درخواست کرتے تھے۔ روایت ہے کہ وہ رات کے وقت تنہائی میں اللہ سے دعا کرتا تھا، حتیٰ کہ عاجزی کی حالت میں الٹا ہو کر بھی دعا مانگتا تھا اور خدا سے قدرت و اختیار طلب کرتا تھا۔ صبح وہ خود کو خدائی اختیار کا مالک ظاہر کرتا اور لوگوں کو حکم دیتا کہ بارش ہو جائے، اور جب بارش ہوتی تو لوگ اسے معجزہ سمجھتے۔
شاعر نے اسی تاریخی و علامتی واقعے کو شعر میں سمویا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب لوگ کسی انسان کو مسیحا یا نجات دہندہ سمجھنے لگتے ہیں تو وہ شخص بھی کبھی کبھی غرور میں آ کر خدائی دعویٰ کرنے لگتا ہے۔ یہ شعر انسانی غرور، اقتدار کی ہوس اور عوام کی اندھی عقیدت پر ایک گہرا طنز ہے۔

شعر 9
طاہرؔ راکھ تلے سینے میں اک چنگاری زندہ تھی
وقت کی پرتیں ہٹا ہٹا کر انگاروں نے دستک دی

تشریح:
مقطع میں شاعر اپنے تخلص کے ساتھ کہتا ہے کہ اس کے دل میں امید اور جذبے کی ایک چنگاری ہمیشہ زندہ رہی۔ وقت کی گرد نے اسے چھپا تو دیا تھا، مگر حالات اور تجربات نے اس چنگاری کو دوبارہ انگار بنا دیا۔
✔ مجموعی تاثر:
یہ غزل انسانی زندگی کے مختلف مراحل — محبت، یاد، فریب، طاقت، غرور اور امید — کو “دستک” کے استعارے کے ذریعے بیان کرتی ہے۔ شاعر نے نہایت سادہ مگر علامتی زبان میں انسانی باطن کی پوری داستان پیش کر دی ہے۔

✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں

علیم طاہر _شاعر و ادیب

علیم طاہر کی مزید تحریریں
شادی، محبت اور قانون: بدلتے رشتوں کا المیہ | جدید معاشرے میں ازدواجی تعلقات کا بحران
شادی، محبت اور قانون: بدلتے رشتوں کا المیہ مضمون نگار: علیم طاہر _____________...
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
لوریاں: ادبِ اطفال کا نایاب باب | بچوں کی تربیت، ماں کی ممتا اور اردو لوک ادب
## لوریاں، ادب اطفال کا نایاب باب لوری گائی جانے والی صنف سخ...
بشیر بدر, ایک عہد کا اختتام، ایک یادگار رفاقت کی داستان
## بشیر بدر: ایک عہد کا اختتام، ایک یادگار رفاقت کی داستان ____________________...
مزید متعلقہ نثر
جب خواب کیمرہ مانگیں _ مالیگاؤں کے سپر بوائز اور سنیما کی ضد
تجزیاتی مضمون نگار: علیم طاہر سنیما صرف روشنیوں، بڑے سیٹ اور شہرت کا نام نہیں ...
دوہا ،لفظوں کا مراقبہ اور خاموش حکمت کی شاعری
اگر شاعری کو ایک دریا مان لیا جائے تو دوہا اس دریا کا وہ قطرہ ہے جس میں پورا سمن...
عصری حسیت کا رچنا کار: عظمت اقبال اور ادھوری تخلیق کا منظر نامہ | تنقیدی جائزہ
عصری حسیت کا رچنا کار :- عظمت اقبال اور" ادھوری تخلیق" کا منظر نامہ ...
(تبصرہ ) "میری بستی میرے لوگ " وکیل نجیب کا خاکہ نمامضامین کا منفرد مجموعہ
## "میری بستی میرے لوگ " وکیل نجیب کا " وکیل نجیب &quo...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن