ہمارا زمانہ
ماہ رمضان میں مساجد و دیگر تقاریر میں ہونے والی تقاریر و بیانات میں مقررین اور علماء سامعین کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسان کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے تھے جو پچھلے رمضان کے مہینے مسجدوں میں ہماری صفوں میں شامل تھے لیکن اب وہ اللہ کی رحمت کو پہنچ گئے ہیں۔ یقینا یہ بات سچ اور قابل عبرت ہے۔ دن، مہینے اور سال گزرنے کے ساتھ زندگی گا دائرہ سمٹتا جاتا ہے۔ سال دہائیوں اور صدیوں میں شمار ہوتے جاتے ہیں۔ ایک نسل دوسری نسل کی شکل لیتی ہے اور نسلوں کا یہ سلسلہ انسانی تاریخ کے آغاز سے تا قیامت جاری رہنا ہے۔ نسل در نسل رسم و رواج، رہن سہن، تکنالوجی، ادب و ثقافت، تعلیم، روزگار گویا زندگی سے جڑے ہر شعبے میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ بس ایک چیز جو ہر نسل سے وابستہ لوگوں کے لئے یکساں ہوتی ہے اور وہ ہے یہ قول کہ،’’ہمارا زمانہ آج کے دور سے بہت اچھا تھا۔’’
یہی قول ہم اپنے بزرگوں سے سنا کرتے تھے اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو نصیحت کے طور پر اسی قول کو دہراتے ہیں۔
کیا ہم یہ کہنے میں حق بہ جانب ہوتے ہیں؟ اس سوال کے جواب کی تلاش اور غور و خوص کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ قول ایک روایتی مغالطہ ہے۔
ماضی، حال و مستقبل کا موازنہ صرف چند پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر نہیں کیا جا سکتا۔ رسوم رواج، روایتوں، علوم و فنون، رہن سہن، لباس و مکان، آمدو رفت، اخلاق و اعمال و دیگر کئی پہلوؤں کے مشاہدیسے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آج کا زمانہ گزرے زمانے سے کسی طور برا نہیں ہے۔ اور یہ کہ آنے والا زمانہ ضروری نہیں کہ آج کے دور سے برا ہو۔
سورہ آل عمران کی ایک آیت کا ترجمہ ہے کہ،
‘‘بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں، جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں غور کرتے ہیں۔’’
قران پاک میں کئی جگہ انسانوں کو قدرت پر غور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اور انسان کا یہی غور وخوص انسانی اصلاح و ترقی کی بنیاد ہے۔ کائنات کے اسرار انسان پر منکشف ہوئے اور نتیجتا انسانی تہذیب کے ارتقاء کی رفتار تیز ہوتی گئی۔ موجودہ دور سائنسی ترقی کا انقلابی دور ہے۔ اس دور میں آمدو رفت، رسل و رسائل، آرام آلائش، غذا، علاج و معالجہ،لباس و مکان گویا کہ زندگی سے جڑی تمام سہولیات و ضروریات با آسانی اور بہتر سے بہترین طرز پر حاصل ہے۔ انسانی زندگی محفوظ ہو گئی ہے۔ معیار زندگی بلند ہوا ہے۔ اصول و ضوابط اور قوانین کی رائج ہونے اور اس پر عمل درآمد کے سبب سماجی اصلاح ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ایک قوم، سماج اور مذہب کے ماننے والے صرف ایک دوسرے سے ہی ہمدردی کا جذبہ نہیں رکھتے بلکہ عالمی بھائی چارے کا نظریہ کافی مضبوط ہوا ہے۔ دستور نے عوام کو حقوق کے ساتھ فرائض کی ذمہ داریاں دی ہیں تو حکمرانوں کو عوامی فلاح و بہبود کا پابند بنایا ہے۔ کئی خامیوں اور کمیوں کے باوجود عدالتوں میں انصاف کی دیوی انصاف کا ترازو تھامے ہوئے ہے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کی منتقلی کا راستہ لاشوں سے ہوکر گزرتا تھا۔ غداری کے الزام میں آنکھیں نکال لینا، کھال کھنچوا لینا، کھولتے تیل میں پھینک دینا، ہاتھی کے پیروں تلے کچلوا دینا اور آدم خود جانوروں کی غذا بنا دینا جیسے فیصلے عام تھے۔ اقتتدار حاصل کرنے کے لئے بھائی بھائی کا، بیٹا باپ کا، باپ بیٹے کا، بھائی بہن اور بہن بھائی کا سر قلم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کوئی تاسف نہیں کرتے تھے۔ تاتاری، چنگیزی، منگول اور ایسی کئی خونخوار جنگجو قوموں کے ظلم کی داستاں تاریخ کا سیاہ باب ہے جو سرخ سیاہی سے لکھا گیا ہے۔
صنعتی انقلاب کے بعد متوسط طبقہ برسر اقتدار آیا۔ جمہوریت کی ترویح کے ساتھ ملوکیت کا خاتمہ ہوا۔
ماضی میں سفر کی صعوبتیں، روزگار کی مصیبتیں، غذا کی تلاش، محفوظ رہائش کی جستجو، وبائی امراض کا قہر وغیرہ جیسے مسائل سے نمٹنے کی جدوجہد میں انسان اپنی پوری قوت صرف کردیا کرتا۔ حال میں دستیاب سہولتیں انسان کو کچھ پل سکون کا سانس لینے کا موقع ضرور فراہم کرتی ہیں۔
اخلاقی نکتہ نظر سے بھی ماضی کیسماج میں پائی جانے والی ناانصافی، توہم پرستی اور عدم مساوات پر مبنی رسومات کی اصلاح ہوئی ہے۔
تاریخ کے ہر دور میں مذہبی و نسلی منافرت اور فرقہ واریت خونیں تصادم اور ظلم جبر کا سبب بنی ہے۔ موجودہ دور بھی اس سے مستشنی نہیں ہے۔ لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی علاقے میں ہونے والے ظلم و تشدد اور انسانیت سوز واقعات کی خبر پل بھر میں دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے۔ دنیا بھر میں احتجاج ہوتے ہیں۔ کئی بین الاقوامی ادارے، تنظیمیں ہمہ وقت مظلومین کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔
حاصل مضمون یہ کہ روایتی قول‘‘ہمارا زمانہ موجودہ آج کے دور سے بہتر تھا۔’’ایک فرسودہ خیال ہے جس کا تسلسل ٹوٹنا چاہئے۔
4 مارچ 2026 ء



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!