جنون
جنون دار پر چڑھ کر رقص کرتا ہے،
جنون قتل کر کے افسوس کرتا،
جنون ہی رموزِ قلب سے واقف ہوتا ہے،
جنون ہی نادیدہ کی جستجو کرتا ہے،
جنون سفر کرکے منزلِ مقصود کو پاتا ہے
جنون وہ مذہب ہے
جس میں شعور ہوس و حواس کی کوئی گنجائش نہیں،
جنون محبت کی کہکشاؤں سے مربوط نفرت کا مہ رخشندہ بھی ہے،
جنون نے ہی ایجاد کی فصل بوئی،
جنون نے ہی سفر کرنے اور دنیا کو جاننے کی چاہ بخشی،
جنون کے باعث تخیلات کی تخلیق ہوئی،
جنون نے ہی احساس کو لفظ کا جامہ پہنایا،
جنون نے ہی فن ہنر کی شناخت کی،
جنون نے جب آہنگ سے ہاتھ ملایا تو شعر کا وجود ہوا
جنون نے زلفِ یار کے پیچ و خم سے لے کر
آبلوں کے اشک پائل کی ترب چوڑیوں کے ساز،
نگاہوں کی صراحی و حباب کا تذکرہ کیا
جنون صوتی ترنگ سے تحریر کے رنگ تک
اپنی دہلیزِ بار پر جبیں خم کرنے پر مجبور کرتا رہا
اسی جنون نے مجھے علم کی شمع میں جینے کی راہ دکھائی
اسی جنون نے زندہ رہنے کا فن عطا کیا
اسی جنون کے سسب خیال کاغذ کے سینے پر
قلم کے نشتر سے زخمِ ناسور کو کافور ہونے تک کا سفر کیا
اسی جنون نے مجھے دانائی کی پگڈنڈی سے بڑھ کر
مجنون کا خطاب بخشا
میں مجنون جنون کی زد میں آکر
بے ترب بھیڑ و تنہائی میں بے ساختہ کہنے لگا
میں زندانِ قرطاس کی عبارتوں کا جنون ہوں
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!