اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانہ

آئیڈیل مین

عظمت اقبالؔ
عظمت اقبالؔ جمعرات، 7 مئی 2026
👁 15 ❤️ 1

آج وہ میڈیکل کالج میں داخلے کے مقصد سے اپنے باپ کے ساتھ کالج انتظامیہ سے ملاقات کے لئے جا رہا تھا۔آٹو میں سامنے لگے آئینے میں منعکس ہونے والے اپنے باپ کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
اس کے دوستوں میں کچھ ایسے طلباء تھے جو اسکول اور کالج کے اوقات میں راہ فرار اختیار کر سنیما ہال کا رخ کرتے ۔ یہ لوگ بالی ووڈ اور ہالی ووڈ اسٹار س کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے ۔ کچھ پڑھاکو قسم کے سنجیدہ طلباء بھی تھے ۔ ان کے لئے آنسٹائن، ابن سینا، نینسن منڈیلا اور مہاتما گاندھی سے لے کر اے پی جے عبدالکلام تک مختلف شخصیات آئیڈیل تھیں ۔ اس نے جب سے ہوش سنبھالا اپنے باپ کو اصول و ضوابط کا پابند پایا۔ وہ مذہبی تعلیمات ، عبادات ،تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ ذمہ داریوں و فرائض کو پوری قوت کے ساتھ اپنے کاندھوں پر ڈھونے والے انسان تھے۔ اس کے باپ کا بچپن غریبی میں گزرا تھا ۔ بنیادی سہولیات کے فقدان کے باوجود انہوں نے اپنی محنت اور مستقل مزاجی کی بدولت تعلیم حاصل کی اور محکمہ محصول میں کلرک کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اپنے بیس برسوں کے کرئیر میں ناجائز کمائی سے نا تو ان کے ہاتھ گندے ہوئے اور نا ہی کسی غیر قانونی سرگرمی نے ان کی سفید کالر کو دھبہ لگایا ۔ وہ مستقبل کا سفر اپنے باپ کا پیروکار بن کر طے کرنے کا خواہاں تھا ۔ آفس میں میٹینگ کی میز پر کالج انتظامیہ نے وضاحت پیش کی کہ اس کے حاصل کردہ نمبرات داخلے کے لئے درکار نمبرات سے کچھ کم ہیں ۔
“ کیا کوئی راستہ ہے؟”
اس کے باپ کے الفاظ امیدوں سے لپٹے ہوئے تھے۔
منتظمین میں سے ایک نے رازدارانہ انداز میں کہا ،
” دیکھیں جناب ! ایک راستہ ہے ۔ آپ کے بچے کے داخلے کے لئے میرٹ کی فہرست میں کچھ بدلاؤ کرنے ہوں گے ۔ لیکن اس کے لئے نیچے سے اوپر تک مینیج کرنا ہوگا ۔ خرچ زیادہ ہوگا ۔”
“کیا ایسا ممکن ہے؟”
اس کے باپ کے جملے سے لا اعتمادی جھلک رہی تھی۔
منتظمین میں سے دوسرا شخص ٹیبل پر ہاتھ مارتا ہوا بولا ، “سر جی ! کیا کچھ نہیں ہو سکتا ؟ ہاں یہ ہے کہ میرٹ کی فہرست میں شامل کسی دوسرے بچے کا نام کاٹنا ہوگا۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس کا باپ بولا،
” ٹھیک ہے آپ جو بھی رقم بولیں انتظام ہو جائے گا ۔ ایڈمیشن کنفرم کرلیں ۔”

عظمت اقبالؔ کی مزید تحریریں
خبردار! کوئی دیکھ رہا ہے
پچھلے دنوں ہمارے شہر میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں بد امنی پھیلنے...
ہمارا زمانہ
ماہ رمضان میں مساجد و دیگر تقاریر میں ہونے والی تقاریر و بیانات میں مقررین اور...
فضیلت
بستی کے نصف سے زیادہ افراد چودھری صاحب کے یہاں دعائیہ تقریب میں اکٹھا تھے۔ کچھ ت...
قفل
تین کمروں پر مشتمل ہمارے مکان کے درمیانی کمرے میں دیوار سے لگ کر ایک تجوری تھی۔...
مزید متعلقہ نثر
نوراں
سردیوں کا آغاز ہوا چاہتا تھا ، اللہ داد کا عشق بھی انگڑائی لے کر جاگنے لگا تھا ۔...
وقت کے پیچھے چھُپے لوگ
شہر کی روشنی، ہلچل اور سروں کے شور میں آئرہ اپنے خیالات کے سمندر میں غوطہ زن تھی...
حنوط
بارش کے بعد مٹی سے نکلتی سوندھی سوندھی خوشبو، مجھے بہت پسند تھی، سردیوں کے موسم ...
کشمکش
آج صبح صبح پھر شیلپا کا فون آگیا تھا۔ وکرم نے نہ جانے کیوں وہ فون ریسیو کر لیا ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن