آئیڈیل مین
آج وہ میڈیکل کالج میں داخلے کے مقصد سے اپنے باپ کے ساتھ کالج انتظامیہ سے ملاقات کے لئے جا رہا تھا۔آٹو میں سامنے لگے آئینے میں منعکس ہونے والے اپنے باپ کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
اس کے دوستوں میں کچھ ایسے طلباء تھے جو اسکول اور کالج کے اوقات میں راہ فرار اختیار کر سنیما ہال کا رخ کرتے ۔ یہ لوگ بالی ووڈ اور ہالی ووڈ اسٹار س کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے ۔ کچھ پڑھاکو قسم کے سنجیدہ طلباء بھی تھے ۔ ان کے لئے آنسٹائن، ابن سینا، نینسن منڈیلا اور مہاتما گاندھی سے لے کر اے پی جے عبدالکلام تک مختلف شخصیات آئیڈیل تھیں ۔ اس نے جب سے ہوش سنبھالا اپنے باپ کو اصول و ضوابط کا پابند پایا۔ وہ مذہبی تعلیمات ، عبادات ،تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ ذمہ داریوں و فرائض کو پوری قوت کے ساتھ اپنے کاندھوں پر ڈھونے والے انسان تھے۔ اس کے باپ کا بچپن غریبی میں گزرا تھا ۔ بنیادی سہولیات کے فقدان کے باوجود انہوں نے اپنی محنت اور مستقل مزاجی کی بدولت تعلیم حاصل کی اور محکمہ محصول میں کلرک کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اپنے بیس برسوں کے کرئیر میں ناجائز کمائی سے نا تو ان کے ہاتھ گندے ہوئے اور نا ہی کسی غیر قانونی سرگرمی نے ان کی سفید کالر کو دھبہ لگایا ۔ وہ مستقبل کا سفر اپنے باپ کا پیروکار بن کر طے کرنے کا خواہاں تھا ۔ آفس میں میٹینگ کی میز پر کالج انتظامیہ نے وضاحت پیش کی کہ اس کے حاصل کردہ نمبرات داخلے کے لئے درکار نمبرات سے کچھ کم ہیں ۔
“ کیا کوئی راستہ ہے؟”
اس کے باپ کے الفاظ امیدوں سے لپٹے ہوئے تھے۔
منتظمین میں سے ایک نے رازدارانہ انداز میں کہا ،
” دیکھیں جناب ! ایک راستہ ہے ۔ آپ کے بچے کے داخلے کے لئے میرٹ کی فہرست میں کچھ بدلاؤ کرنے ہوں گے ۔ لیکن اس کے لئے نیچے سے اوپر تک مینیج کرنا ہوگا ۔ خرچ زیادہ ہوگا ۔”
“کیا ایسا ممکن ہے؟”
اس کے باپ کے جملے سے لا اعتمادی جھلک رہی تھی۔
منتظمین میں سے دوسرا شخص ٹیبل پر ہاتھ مارتا ہوا بولا ، “سر جی ! کیا کچھ نہیں ہو سکتا ؟ ہاں یہ ہے کہ میرٹ کی فہرست میں شامل کسی دوسرے بچے کا نام کاٹنا ہوگا۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس کا باپ بولا،
” ٹھیک ہے آپ جو بھی رقم بولیں انتظام ہو جائے گا ۔ ایڈمیشن کنفرم کرلیں ۔”



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!