میرے تخیلات نادیدہ ذات،جسم ندارد فکری توانائی فطری صلاحیت، استعداد، قابلیت، طبعی جواہر کے لباس میں ملبوس حساس طبیعت کو جنم دیتے ہیں، یہ وہ طبیعت ہے جو ارد گرد کے ماحول کو الفاظ کے زندان میں مقید کرکے ظرفِ قوت کو کشادہ کرتے ہیں اسی قوت سے زبان بابِ ترنم کو عبور کرتی ہے پھر نہجِ آہنگ پر سحر انگیز طور پر سماعت کے قابل بنتی ہے حرف کی خوشبو الفاظ کے چمن میں بہار کا اعلان کرتے ہوئے مصرع کی شکل اختیار کرتی ہے تب کہیں جا کے شاعر تولد ہوتا ہے شاعر اپنے وجود کو مصرع پر گرہ لگاتے ہوئے قبیلۂ ادب کا باشندہ بن کر غزل تخلیق کرنے کا مربوط ارادہ کرتا ہے اسی ارادے سے شاعر الگ الگ اصناف و صناعات سے رجعت کرتا ہے اسی رجعت کے باعث تلخی، سختی، نرمی، شیرینی جیسی صفات کے ساتھ قارئین کی میزِ مطالعہ تک پہنچ کر اپنی نگاہ و خیال سے دنیا دیکھنے پر مجبور کرتا ہے اسی کو اہلِ شعور شاعر کہتے ہیں


