اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
قطعہ

منتظم عاصیؔ کا خوبصورت قطعہ | کسی ایک کونے میں چھپ کر سسکنا | مکمل ادبی و تنقیدی جائزہ

منتظم عاصیؔ پیر، 20 اپریل 2026
👁 40 ❤️ 0
منتظم عاصیؔ کا خوبصورت قطعہ | کسی ایک کونے میں چھپ کر سسکنا | مکمل ادبی و تنقیدی جائزہ
کسی ایک کونے میں چھپ کر سسکنا
مرا مشغلہ ہے گھر آنے سے پہلے
بہانا کوئی اور تم سوچ لینا
جنوں سے بہانا بنانے سے پہلے
اگر ہوسکے تو ذرا مسکرانا
مرا تم جنازہ اٹھانے سے پہلے
📖 خلاصہ

یہ قطعہ منتظم عاصیؔ کے درد، تنہائی، محبت، جدائی اور جذباتی کرب کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر اپنی اندرونی کیفیت کو چھپ کر سسکنے کے عمل سے بیان کرتا ہے اور محبوب سے کہتا ہے کہ میری حالت کو سمجھنے سے پہلے کوئی اور بہانہ نہ بنانا۔ آخری شعر میں شاعر کی درد بھری خواہش سامنے آتی ہے کہ اس کے جنازے سے پہلے محبوب کم از کم ایک بار مسکرا دے۔ قطعے میں تنہائی، جنونِ عشق، بے بسی، جدائی اور آخری خواہش نہایت مؤثر انداز میں سامنے آتے ہیں۔

📚 ادبی جائزہ

منتظم عاصیؔ نے اس قطعے میں سادہ اور براہِ راست زبان کے ذریعے ایک گہری جذباتی کیفیت پیدا کی ہے۔ "چھپ کر سسکنا"، "بہانا"، "جنوں…

منتظم عاصیؔ نے اس قطعے میں سادہ اور براہِ راست زبان کے ذریعے ایک گہری جذباتی کیفیت پیدا کی ہے۔ "چھپ کر سسکنا"، "بہانا"، "جنوں" اور "جنازہ" جیسے الفاظ مل کر محبت کے درد اور انسانی بے بسی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔

قطعے کی خوبی یہ ہے کہ شاعر بڑے دعووں کے بجائے مختصر اشعار میں اپنے باطن کی کیفیت بیان کرتا ہے۔

🖋️ تنقیدی جائزہ

قطعے میں محبت کو خوشی کے بجائے درد، تنہائی اور جدائی کے تجربے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر کا دکھ صرف محبوب کی عدم توجہی کا دکھ نہیں بلکہ ایک ایسی ا…

قطعے میں محبت کو خوشی کے بجائے درد، تنہائی اور جدائی کے تجربے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر کا دکھ صرف محبوب کی عدم توجہی کا دکھ نہیں بلکہ ایک ایسی اندرونی کیفیت ہے جسے وہ دوسروں سے چھپا کر برداشت کرتا ہے۔

دوسرے شعر میں جنوں کا لفظ محبت کی شدت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ آخری شعر میں جنازہ زندگی کے اختتام کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔

یہاں موت کا ذکر ادبی اور جذباتی اظہار کے طور پر آیا ہے؛ اسے شاعر کی حقیقی زندگی کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ نہیں سمجھنا چاہیے۔

✦ مرکزی خیال

اس قطعے کا مرکزی خیال محبت میں پیدا ہونے والی تنہائی، اندرونی کرب اور محبوب سے وابستہ آخری خواہش ہے۔

شاعر اپنی محبت کے درد کو ظاہر کرنے کے بجائے تن…

اس قطعے کا مرکزی خیال محبت میں پیدا ہونے والی تنہائی، اندرونی کرب اور محبوب سے وابستہ آخری خواہش ہے۔

شاعر اپنی محبت کے درد کو ظاہر کرنے کے بجائے تنہائی میں سسکنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اس کی کیفیت کو سمجھنا آسان نہیں، اسی لیے وہ محبوب کو مخاطب کرتے ہوئے مختلف بہانوں سے بچنے کا اشارہ دیتا ہے۔

آخری شعر میں شاعر کی کیفیت مزید دردناک ہو جاتی ہے، جہاں وہ اپنی موت کے تصور کے ساتھ بھی محبوب کی مسکراہٹ کو اپنی آخری خواہش قرار دیتا ہے۔

✦ شعر بہ شعر تشریح

مشکل الفاظ
کونے میں چھپنا: تنہائی اختیار کرنا، اپنے غم کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا۔
سسکنا: دبا دبا کر روئے جانا، خاموش آہ و زاری کرنا۔
مشغلہ: ر…

مشکل الفاظ

کونے میں چھپنا: تنہائی اختیار کرنا، اپنے غم کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا۔
سسکنا: دبا دبا کر روئے جانا، خاموش آہ و زاری کرنا۔
مشغلہ: روزمرہ کی عادت، پسندیدہ یا مدام کیا جانے والا کام۔
جنوں: دیوانگی، عشق کی شدت، جنونِ محبت۔
بہانا: عذر، حیلہ، جیوٹ۔
جنازہ: میت، آخری سفر، مرگِ عاشق۔
مسکرانا: تبسم، دکھ کو چھپانے یا آخری الوداعی خوشی کا اظہار۔

تشریح (شعر بہ شعر)

شعر 1

کسی ایک کونے میں چھپ کر سسکنا
مرا مشغلہ ہے گھر آنے سے پہلے

تشریح:

شاعر اپنے شدید داخلی کرب اور خاندانی/سماجی ذمہ داریوں کے درمیان کشمکش کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ باہر کی دنیا میں اس پر اتنے دکھ اور صدمات ٹوٹتے ہیں کہ اس کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ لیکن وہ اپنے غم، اپنی ناکامیوں اور اپنے آنسوؤں کو اپنے گھر والوں پر ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتا۔
گھر میں داخل ہونے سے پہلے وہ کسی تنہا کونے میں چھپ کر جی بھر کر سسک لیتا ہے اور اپنے آنسو بہا لیتا ہے تاکہ جب وہ اپنے بچوں، والدین یا گھر والوں کے سامنے جائے تو اس کے چہرے پر غم کے اثرات نہ ہوں۔ یہ شعر ایک خوددار اور غیرت مند انسان کی اس مجبوری کو ظاہر کرتا ہے جو دنیا بھر کا درد اکیلے سہتا ہے مگر اپنے اپنوں کے سامنے مسکرانے کا ڈرامہ کرتا ہے۔

شعر 2

بہانا کوئی اور تم سوچ لینا
جنوں سے بہانا بنانے سے پہلے

تشریح:

شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر اس کی بے وفائی یا ٹال مٹول کی عادت پر طنزیہ اور انتباہی انداز میں کہتا ہے کہ اگر تم مجھ سے دوری اختیار کرنے یا اپنی بے وفائی کو چھپانے کے لیے کوئی عذر تراشنا چاہتے ہو، تو ذرا سوچ سمجھ کر کوئی نیا بہانہ بنانا۔
"جنوں" سے مراد وہ عاشق ہے جو شدتِ محبت میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور جو محبوب کی ہر چال، اس کی آنکھوں کے دھوکے اور اس کے دل کی بات کو بخوبی سمجھتا ہے۔ عاشق کا جنون محبوب کی تمام چالاکیوں کو بے نقاب کر سکتا ہے۔ شاعر محبوب کو خبردار کرتا ہے کہ مجھے کسی عام انسان کی طرح نہ سمجھو، تمہارا سست اور مصنوعی بہانہ میرے جنون اور میری سچی پرکھ کے سامنے فوراً کھل جائے گا۔

شعر 3

اگر ہوسکے تو ذرا مسکرانا
مرا تم جنازہ اٹھانے سے پہلے

تشریح:

اس شعر میں غمی اور حسرت کا انتہا درجہ کا بیان ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے اپنی آخری یعنی مرگ کے بعد کی التجا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب میری موت واقع ہو جائے اور تم میری میت یا جنازے کو اٹھانے آؤ، تو ملال یا دکھ کا دکھاوا کرنے کے بجائے اپنے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ لے آنا۔
اس التجا کے دو گہرے مفہوم ہیں:
شاعر کی آخری خواہش: عاشق چاہتا ہے کہ دنیا سے جاتے جاتے بھی وہ اپنے محبوب کا وہ ہنستا مسکراتا چہرہ دیکھے جس کی آرزو میں اس نے اپنی پوری زندگی گنوا دی۔
تلخ طنز: اگر محبوب کی بے وفائی اور ستم ہی عاشق کی موت کا سبب بنے ہیں، تو پھر اس کی موت پر جھوٹے آنسو بہانے کے بجائے محبوب کو اپنی فتح یا میری آزادی پر مسکرا ہی دینا چاہیے تاکہ اس کے دل کا ارمان پورا ہو جائے۔

مرکزی مفہوم

اس کلام کا مرکزی مفہوم انسان کا داخلی ضبط، اپنے دکھوں کو اپنوں سے چھپانے کی خوددارانہ کوشش، محبوب کی بے وفائیوں کا ادراک اور زندگی و موت کے اخلاقی و جذباتی صدمات پر مبنی ہے۔ شاعر اپنے غم کو اپنی ذات تک محدود رکھتا ہے اور محبوب سے اپنی آخری سانسوں تک صرف سچائی اور ایک مسکراہٹ کی آس رکھتا ہے۔

مکمل تشریح

منتظم عاصیؔ کی اس غزل میں انسانی نفسیات، غیرتِ خودی اور غمِ دوراں کا بے حد دلکش اور اثر انگیز اظہار نظر آتا ہے۔
پہلے شعر میں شاعر نے "گھر آنے سے پہلے" کے وقفے کو جس خوبصورتی سے ایک خوددار انسان کی سسکیوں کی پناہ گاہ بنایا ہے، وہ عام آدمی کی زندگی کے المیے کو سچائی کے ساتھ سامنے لاتا ہے۔ انسان دنیا کے دھکے کھا کر جب گھر لوٹتا ہے تو اپنے بچوں یا گھر والوں کے سامنے اپنا دکھ ظاہر نہیں کرنا چاہتا؛ لہٰذا وہ تنہائی میں اپنے آنسو بہا کر خود کو سنبھالتا ہے۔
دوسرے شعر میں عشق کی وہ پختگی دکھائی گئی ہے جہاں عاشق سچا اور باخبر ہے، وہ محبوب کی جھوٹی تاویلوں اور بہانوں کو پہلے ہی بھانپ لیتا ہے۔
آخری شعر اداسی، حسرت اور المیہ کا اوج ہے۔ جنازے کے وقت محبوب کی مسکراہٹ مانگنا عاشق کی بے غرض محبت اور خود کو محبوب کی خوشی پر قربان کر دینے کے جذبے کو نمایاں کرتا ہے۔

مجموعی تاثر

یہ غزل درد، ضبط اور سچائی کی ایک سچی اور غمگین تصویر ہے۔ زبان میں بلا کی سادگی، روانی اور گہرائی ہے۔ اشعار کا لہجہ دھیما مگر دل کو چھو لینے والا ہے، جو قاری کو تنہائی، خودداری اور سچے جذبات کی دنیا میں لے جا کر گہرے غور و فکر پر مجبور کرتا ہے۔

✦ فنی محاسن

1۔ سادہ اور مؤثر زبان
قطعے میں مشکل الفاظ کی بھرمار نہیں، بلکہ عام اور واضح الفاظ کے ذریعے گہرا احساس پیدا کیا گیا ہے۔
2۔ جذباتی شدت
سسکنا، جنوں، ج…

1۔ سادہ اور مؤثر زبان

قطعے میں مشکل الفاظ کی بھرمار نہیں، بلکہ عام اور واضح الفاظ کے ذریعے گہرا احساس پیدا کیا گیا ہے۔

2۔ جذباتی شدت

سسکنا، جنوں، جنازہ جیسے الفاظ شعر کی جذباتی شدت میں اضافہ کرتے ہیں۔

3۔ مکالماتی انداز

شاعر محبوب سے براہِ راست مخاطب ہے، جس سے قطعے میں گفتگو کا رنگ پیدا ہوتا ہے۔

4۔ تکرارِ لفظی

"سے پہلے" کی تکرار قطعے میں ربط اور موسیقیت پیدا کرتی ہے۔

5۔ تضاد

مسکرانا اور جنازہ ایک دوسرے کے مقابل آ کر شعر میں گہرا جذباتی تضاد پیدا کرتے ہیں۔

6۔ اختتامیہ تاثیر

آخری شعر پورے قطعے کے جذبات کو عروج تک پہنچاتا ہے اور قاری پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔

✦ علامت نگاری

کونا
کونا تنہائی، گوشہ نشینی اور دنیا سے خود کو الگ کر لینے کی علامت ہے۔
سسکنا
سسکنا اندرونی درد، بے بسی اور چھپے ہوئے غم کی علامت ہے۔
گھر
گھر یہ…

کونا

کونا تنہائی، گوشہ نشینی اور دنیا سے خود کو الگ کر لینے کی علامت ہے۔

سسکنا

سسکنا اندرونی درد، بے بسی اور چھپے ہوئے غم کی علامت ہے۔

گھر

گھر یہاں ظاہری واپسی کے ساتھ ساتھ جذباتی زندگی اور اپنے ماحول کی طرف واپسی کا تصور بھی پیدا کرتا ہے۔

بہانہ

بہانہ حقیقت کو چھپانے یا اصل کیفیت سے بچنے کی علامت ہے۔

جنوں

جنوں شدید عشق، بے قراری اور جذباتی شدت کی علامت ہے۔

جنازہ

جنازہ زندگی کے اختتام اور آخری جدائی کی علامت ہے۔

مسکراہٹ

مسکراہٹ محبوب کی محبت، قبولیت یا آخری خوشی کی علامت بن جاتی ہے۔

✦ استعارات و تشبیہات

چھپ کر سسکنا
یہ محض رونے کا عمل نہیں بلکہ اندرونی درد کو دنیا سے چھپانے کا استعارہ بھی ہے۔
جنوں
جنوں یہاں عشق کی شدت اور ایسی محبت کی کیفیت کی طرف …

چھپ کر سسکنا

یہ محض رونے کا عمل نہیں بلکہ اندرونی درد کو دنیا سے چھپانے کا استعارہ بھی ہے۔

جنوں

جنوں یہاں عشق کی شدت اور ایسی محبت کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو معمول کی حدود سے آگے بڑھ چکی ہو۔

جنازہ

جنازہ یہاں آخری جدائی اور زندگی کے اختتام کی علامت ہے۔

مسکرانا

محبوب کی مسکراہٹ کو شاعر نے ایسی آخری خوشی کے طور پر پیش کیا ہے جس کی اسے اپنی موت کے وقت بھی خواہش ہے۔

✦ شاعر کے فکری زاویے

محبت کا درد انسان کو تنہائی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
انسان بعض اوقات اپنا غم دوسروں سے چھپا کر برداشت کرتا ہے۔
شدید محبت میں جنون اور بے قراری پیدا ہو …

محبت کا درد انسان کو تنہائی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
انسان بعض اوقات اپنا غم دوسروں سے چھپا کر برداشت کرتا ہے۔
شدید محبت میں جنون اور بے قراری پیدا ہو سکتی ہے۔
محبوب کی ایک معمولی سی خوشی بھی عاشق کے لیے بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
جدائی محبت کے تجربے کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
آخری لمحے تک محبوب کی یاد انسان کے جذبات پر غالب رہ سکتی ہے۔

✦ آج کے دور میں غزل کی معنویت

موجودہ دور میں بھی بہت سے لوگ اپنے جذبات اور ذہنی کرب کو دوسروں سے چھپا کر زندگی گزارتے ہیں۔ اس لحاظ سے قطعے میں بیان ہونے والی تنہائی، جذبات کو چھپان…

موجودہ دور میں بھی بہت سے لوگ اپنے جذبات اور ذہنی کرب کو دوسروں سے چھپا کر زندگی گزارتے ہیں۔ اس لحاظ سے قطعے میں بیان ہونے والی تنہائی، جذبات کو چھپانا، محبت میں ناکامی اور کسی خاص شخص کی توجہ کی خواہش آج کے قاری کے لیے بھی قابلِ احساس موضوعات ہیں۔

← پچھلا اگلا →

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …

مزید پڑھیں ←
قطعہ کیا ہے؟

قطعہ اردو شاعری کی ایک مختصر صنف ہے جس میں چار یا زیادہ مصرعے ایک موضوع پر ہوتے ہیں۔

منتظم عاصیؔ کی مزید
سجدۂ دوام** معروف شاعر **منتظم عاصیؔ** کا ایک منفرد نعتیہ و منقبتی شعری مجموعہ ہے جس میں عشقِ الٰہی...
خود سے خود کو ہے بنایا، اے سارے جہاں کے والی، اللہ ھو خود کو تونے ہے چھپایا، اے پردہ کئے خود عالی، ا...
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں کو...
"حرفِ عظیم میم" منتظم عاصیؔ کی نعتیہ و منقبتی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ ا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن