غزل
بس اس لئے تمام نصابوں میں رہ گئے
منتظم عاصیؔ
پیر، 20 اپریل 2026
👁 26
❤️ 0
دنیا نواز لوگ شہابوں میں رہ گئے
بس اس لئے تمام نصابوں میں رہ گئے
دنیا یہ نفرتوں کے شکنجے میں آ گئی
"چاہت کے پھول دل کی کتابوں میں رہ گئے"
دنیا کے عیب چُن لئے بازارِ حُسن نے
جتنے بچے تھے نقص نوابوں میں رہ گئے
دنیا نے آسماں کی بلندی کو چھو لیا
ہم لوگ تیری یادوں میں خوابوں میں رہ گئے
دنیا شناس ہوگئی نرگس کے پھول سے
ہم آنکھ ہونٹ زلف گلابوں میں رہ گئے
دنیا بھی ایک بھول بھُلیّا ہے دوستو
آکر کے ہم بھی اس کے سرابوں میں رہ گئے
دنیا کو ہم سمجھ کے بھی سمجھے نہیں کبھی
بیکار میں سوال و جوابوں میں رہ گئے
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان
## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
منتظم عاصیؔ کی مزید
سجدۂ دوام** معروف شاعر **منتظم عاصیؔ** کا ایک منفرد نعتیہ و منقبتی شعری مجموعہ ہے جس میں عشقِ الٰہی...
خود سے خود کو ہے بنایا، اے سارے جہاں کے والی، اللہ ھو خود کو تونے ہے چھپایا، اے پردہ کئے خود عالی، ا...
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں کو...
"حرفِ عظیم میم" منتظم عاصیؔ کی نعتیہ و منقبتی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ ا...




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!